غزہ(3 جولائی 2026): غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں تاہم اب بھی حملے کا سلسلہ جاری ہے۔7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس بدترین اسرائیلی جارحیت نے پوری غزہ پٹی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے محصور پٹی پر اپنا فوجی کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں اور حملے جاری ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے شہر جنین کے قریب فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی پر بلڈوزر چلا کر زیتون کے 500 درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔رپورٹ کے مطابق سال 2020 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد زیتون کے درخت یا تو کاٹ دیے گئے ہیں، یا انہیں زہریلے مواد اور دیگر طریقوں سے دانستہ طور پر تباہ کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے حملوں میں 11 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 866 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں 35 بچے اور 21 خواتین بھی شامل ہیں۔غزہ میں صورتحال انتہائی ابتر ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کا مستقبل بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے باعث غزہ کی اکثریت اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہو کر شدید خستہ حالی کی زندگی گزار رہی ہے۔