کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس، انتخابی اصلاحات، الیکشن کمیشن، خارجہ پالیسی، رام مندر کے نذرانوں میں مبینہ بدعنوانی اور آئینی معاملات پر مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر کام کر رہے ہیں، جس سے ملک کا انتخابی نظام خطرے میں ہے۔ خارجہ پالیسی بھی ناکام ہو چکی ہے اور حکومت اہم قومی مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث سے گریز کر رہی ہے۔خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے اور مختلف ریاستوں میں تنظیمی سطح پر میٹنگیں شروع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ ’بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے اتحاد‘ کے خلاف بھی لڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے اور اسے درپیش چیلنجوں کا بخوبی اندازہ ہے۔#WATCH | दिल्ली | कांग्रेस नेता जयराम रमेश ने संसद के आगामी मानसून सत्र पर कहा, "...(आगामी विधानसभा चुनावों को लेकर) हमारी तैयारी हो रही है। हम ये भी जानते हैं कि हम न केवल भाजपा के खिलाफ लड़ रहे हैं लेकिन ये भाजपा और चुनाव आयोग का गठबंधन भी है... हकीकत यही है। इसके बावजूद हम… pic.twitter.com/0CyA3KjH5y— ANI_HindiNews (@AHindinews) July 4, 2026ایس آئی آر سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی (عآپ) سمیت 24 سیاسی پارٹیوں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے مشترکہ طور پر ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل، الیکشن کمیشن کے مبینہ جانبدارانہ رویے، ’سیٹ چوری‘ اور ’ووٹ چوری‘ جیسے معاملات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں اور انھیں حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ انتخابات کے نتائج پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ اگر نتائج پہلے سے طے ہوں تو پھر انتخابات کرانے کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔#WATCH | दिल्ली | कांग्रेस नेता जयराम रमेश ने कहा, "24 राजनीतिक दलों ने, जिसमें DMK और AAP भी शामिल हैं, एक निर्दलीय सांसद कपिल सिब्बल ने मिलकर CJI(भारत के मुख्य न्यायाधीश) को एक पत्र लिखा है। SIR की प्रक्रिया को लेकर, चुनाव आयोग जो एकपक्ष होकर काम कर रही है उसे लेकर, संसद में… pic.twitter.com/hvz1AwLNnv— ANI_HindiNews (@AHindinews) July 4, 2026کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ہندوستان کا آئین اور انتخابی نظام حملوں کی زد میں ہے اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹر اور ہریانہ میں اس کے طرز عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کمیشن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ملک میں صرف ووٹ اور سیٹوں کی ہی نہیں بلکہ چندوں کی بھی ’چوری‘ ہو رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ووٹ، سیٹ اور چندہ تینوں کی چوری ہو رہی ہے، وہاں ’ٹرپل انجن حکومت‘ ہے۔جئے رام رمیش نے ’اے این آئی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) بل دوبارہ لا سکتی ہے اور ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے انتقامی سیاست کر رہی ہے، سیاسی پارٹیوں کو توڑا جا رہا ہے اور اس کا اصل مقصد آئین میں تبدیلی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 400 سیٹوں کا نعرہ بھی اسی لیے دیا گیا تھا تاکہ آئین میں ترمیم کی جا سکے۔ حکومت ریزرویشن اور سماجی انصاف کے مسائل سے بچنا چاہتی ہے اور اسی لیے دو تہائی اکثریت کی خواہاں ہے۔#WATCH | Delhi | Congress MP Jairam Ramesh says, "... The Prime Minister was very angry over the Delimitation Bill. The anger was visible on his face. The Home Minister was also angry. Despite many efforts, they didn't get a two-thirds majority, and they're now taking revenge.… pic.twitter.com/RGAmYAUSHT— ANI (@ANI) July 4, 2026پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے متعلق جئے رام رمیش نے آل پارٹی میٹنگ کو محض رسمی کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دفاعی وزیر اجلاس میں آکر تقریر کرتے ہیں، ارکان کی بات سنتے ہیں، لیکن بعد میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے دفتر کی طرف سے جو ایجنڈا طے ہوتا ہے، وہ اس اجلاس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی میٹنگوں کی کوئی عملی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ خارجہ پالیسی پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن سفارتی سطح پر ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گلے لگا رہے ہیں اور پاکستان کو عالمی سطح پر دوبارہ اہمیت مل رہی ہے۔ جس پاکستان کو دہشت گردی کی ’فیکٹری‘ کہا جاتا تھا، اسے اب عالمی سطح پر کلین چٹ دی جا رہی ہے، جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔