دہلی میں فی الحال نہیں ہوگا بجلی کمپنیوں کا سی اے جی آڈٹ، سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کے فیصلے پر لگائی عبوری روک

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کی جانب سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے سی اے جی آڈٹ کرانے کے حکم پر فی الحال عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ حکم اس مقدمے کی سماعت کے دوران دیا، جو تقریباً 38 ہزار 500 کروڑ روپے کے ریگولیٹری اثاثوں سے متعلق ہے۔ دہلی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ جانچ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے ضروری ہے کہ اتنی بڑی رقم برسوں تک کیوں جمع ہوتی رہی اور اس کی بروقت وصولی کیوں نہیں کی گئی۔یہ عبوری حکم جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس شری چندر شیکھر پر مشتمل بنچ نے جاری کیا۔ عدالت نے تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سی اے جی آڈٹ کے حکم پر اگلے احکامات تک روک لگا دی، جس کے باعث فی الحال آڈٹ کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا۔دہلی حکومت نے ایک روز قبل بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے آڈٹ کا حکم جاری کیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ریگولیٹری اثاثوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی رقم اور اس کی وصولی میں تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے سی اے جی آڈٹ ناگزیر ہے۔ حکومت کے مطابق عوامی مفاد میں یہ جاننا ضروری ہے کہ مالی بوجھ کس طرح بڑھتا گیا اور اس کے ذمہ دار عوامل کیا رہے۔کانگریس نے بجلی نظام کی نجکاری سے قبل ٹورینٹ کمپنی کے کام کی جانچ کا کیا مطالبہجن کمپنیوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا تھا، ان میں بی ایس ای ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ، بی ایس ای ایس یمنا پاور لمیٹڈ اور ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت نے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔سماعت کے دوران دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں دلائل پیش کیے، جبکہ نجی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نمائندگی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کی۔ دونوں فریقوں کا مؤقف سننے کے بعد سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے آڈٹ کے عمل پر روک لگا دی۔ریگولیٹری اثاثے اس رقم کو کہا جاتا ہے جو بجلی کمپنیاں بجلی کی فراہمی اور دیگر اخراجات پر خرچ کر چکی ہوتی ہیں، لیکن اس کی مکمل وصولی فوری طور پر صارفین سے نہیں ہو پاتی۔ یہ رقم بعد میں بجلی کے بلوں کے ذریعے مرحلہ وار وصول کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ اس کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔ دہلی میں ایسی بقایا رقم اب تقریباً 38 ہزار 500 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جسے لے کر حکومت اور بجلی کمپنیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد فی الحال آڈٹ کی کارروائی رکی رہے گی اور آئندہ سماعت میں اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔