مغربی بنگال: ترنمول کانگریس کے باغی دھڑے کا پارٹی ہیڈکوارٹر پر قبضہ، اپنا بینر بھی کیا نصب

Wait 5 sec.

ترنمول کانگریس میں جاری اندرونی بحران نے جمعہ کے روز اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب رتبریت بنرجی کی قیادت میں باغی دھڑے کے رہنماؤں نے کولکاتا میں واقع پارٹی کے تنظیمی ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر کے وہاں اپنا بینر نصب کر دیا۔ اس پیشرفت سے پارٹی پر کنٹرول، انتخابی نشان اور مالی وسائل کے حوالے سے جاری کشمکش مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔اس سے قبل رتبریت بنرجی کی سربراہی میں دس رکنی وفد نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی۔ وفد نے پارٹی سے متعلق جاری تنازعہ کے سلسلے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔ گزشتہ ماہ تقریباً 60 ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بعد سے پارٹی کی قیادت، تنظیمی ڈھانچے، انتخابی نشان اور بینک میں جمع فنڈ پر حق کے معاملے میں دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔کولکاتا میں جس عمارت پر باغی دھڑے نے قبضہ کیا ہے، وہ سن 2022 سے ترنمول کانگریس کے تنظیمی ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ پارٹی کے مستقل مرکزی دفتر میں تعمیر نو کا کام شروع ہونے کے بعد تنظیمی سرگرمیاں اسی عمارت سے چلائی جا رہی تھیں۔رتبریت بنرجی کے ساتھ فردہاد حکیم، جاوید خان، سندیپن ساہا اور اخرالزماں سمیت متعدد باغی رہنما دفتر پہنچے اور خود کو حقیقی ترنمول کانگریس قرار دیتے ہوئے عمارت پر اپنا بینر نصب کر دیا۔ باغی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عمارت کے مالک کے ساتھ تمام قانونی اور کاغذی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ہی وہ دفتر میں داخل ہوئے ہیں۔اخرالزماں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہی اصل ترنمول کانگریس ہیں اور یہ دفتر ان کی جماعت کا ہے۔ ان کے مطابق اس عمارت سے پارٹی کا جذباتی تعلق ہے، اس لیے وہ اسے اپنی تنظیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں گے۔دوسری جانب ممتا بنرجی کے حامیوں نے اس کارروائی کو زبردستی قبضہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے الزام لگایا کہ حکومت اور پولیس کی مدد سے پارٹی سے خارج کیے گئے ایک رکن اسمبلی کی قیادت میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باغی دھڑا دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر رہا ہے۔اگرچہ دفتر کے اندر ممتا بنرجی کی تصاویر اور کٹ آؤٹ موجود ہیں، تاہم باغی دھڑے نے انہیں نہیں ہٹایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ممتا بنرجی مستقبل میں پارٹی میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔باغی دھڑا گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نشست میں ممتا بنرجی کی جگہ اروپ رائے کو پارٹی کا صدر منتخب کرنے کا اعلان بھی کر چکا ہے، جبکہ نئی تنظیمی کمیٹی میں ابھیشیک بنرجی کو شامل نہیں کیا گیا۔ انتخابی نشان اور پارٹی کے مالی وسائل پر حق کے سوال پر رتبریت بنرجی نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے دو تہائی ارکان اسمبلی، متعدد سابق وزراء، کونسلر اور ضلع پریشد کے ارکان ان کے ساتھ ہیں، اس لیے اس معاملے میں کسی تنازع کی گنجائش نہیں ہے۔