برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے معافی مانگ لی

Wait 5 sec.

لندن(3 جولائی 2026): برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ماضی میں انگلینڈ اور ویلز کے اندر بچوں کو جبری طور پر گود دینے کے عمل میں حکومتی کردار پر باضابطہ طور پر معافی مانگ لی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 1950 سے 1970 کے عرصے کے دوران بغیر شادی کے بچے پیدا کرنے والی ماؤں پر اپنے بچوں کو دوسروں کے حوالے کرنے (گود دینے) کے لیے شدید حکومتی اور سماجی دباؤ ڈالا گیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار ماؤں کو اس جبری عمل کا نشانہ بننا پڑا تھا۔برطانوی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اپنے بیان کے دوران اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں ماؤں، بچوں اور خاندانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ ہماری تاریخ پر ایک گہرا داغ ہے۔متاثرہ ماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ شرم تمہاری نہیں، شرم کبھی تمہاری نہیں تھی، بلکہ یہ شرم ہماری تھی۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے یہ تاریخی معافی متاثرین کی جانب سے برسوں تک چلائی جانے والی مہم اور مختلف پارلیمانی رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد دی گئی ہے۔اس مہم کے اہم ارکان نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے باضابطہ بیان سے قبل سر کیئر اسٹارمر سے خصوصی ملاقات بھی کی تھی۔