غزہ میں پانی کے متلاشی فلسطینی بچے اسرائیلی درندگی کا نشانہ بن گئے۔وسطی غزہ کی پٹی میں پانی جمع کرنے کے دوران اسرائیلی ڈرون نے دھماکہ خیز مواد گرایا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی بچہ شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بیان میں کہا کہ "ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون نے ان پر اس وقت بم گرایا جب وہ غزہ شہر کے مشرق میں العمری مسجد کے پیچھے پانی بھر رہے تھے۔”بہت سے بےگھر فلسطینی جن کے گھر اسرائیل نے تباہ کر دیے ہیں وہ خیموں اور پناہ گاہوں پر انحصار کرتے ہیں جن میں پانی کے باقاعدہ نیٹ ورک کی کمی ہے اور وہ عوامی مقامات اور ٹینکوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔اسرائیل کی جانب سے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے بعد غزہ بھر میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے اور مرمت کے لیے سامان کی پابندیاں جاری ہیں۔فلسطینیوں کو فلنگ اسٹیشنوں پر چھوٹے جیری کین بھرنے تک محدود رکھا جا رہا ہے۔