رام مندر میں ’چندہ چوری‘ کے لیے ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کو ٹھہرایا ذمہ دار، 5 جولائی کو احتجاجی مظاہرہ کا اعلان

Wait 5 sec.

شیوسینا یو بی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی پر ایودھیا رام مندر کے چندہ کی لوٹ کا سنگین الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 جولائی کو ممبئی کے دادر علاقے میں وہ ’رام رکشا‘ نام سے احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور اس کے ساتھ ہی ریاست گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے عطیہ کی گئی رقم کو ’لوٹ لیا‘ ہے اور اسے اس کا جواب دینا چاہیے۔ادھو ٹھاکرے نے بتایا کہ اتوار کی شام 5 بجے دادر کے کبوتر خانہ واقع ہنومان مندر کے قریب احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انھوں نے تمام شہریوں کو اس احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کے امتیاز سے بالاتر ہو کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ہر اس ہندو کو دعوت دیتا ہوں جو بھگوان رام کے گھر میں ہونے والی اس چوری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ہندوتوا یا بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے کو ترک نہیں کیا۔ ہم سب رام رکشا ستوتر، ہنومان ستوتر اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنے کے لیے جمع ہوں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود پارٹی کے سرکردہ لیڈران اور شیوسینکوں کے ساتھ اس احتجاج کی قیادت کریں گے۔رام جنم بھومی تحریک کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ آج بی جے پی کی سیاسی بالادستی عام ہندوؤں کی قربانیوں پر قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ملک بھر کے ہندوؤں نے اس تحریک میں حصہ لیا، جس نے بی جے پی کو کھڑا کیا۔ ہمیں کارسیوکوں پر ہونے والے مظالم، گودھرا سانحہ، احمد آباد فسادات اور ممبئی میں پیش آنے والی مصیبتیں یاد ہیں۔ ان تمام تکالیف کے باوجود ہندوؤں نے ثابت قدمی دکھائی۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی، جس کے پاس اس تحریک سے پہلے صرف 2 اراکینِ پارلیمنٹ تھے اور جو ’گاندھی وادی سماجواد‘ کی پیروکار تھی، ہندوتوا کی طرف مڑ گئی اور رام مندر کے مسئلہ کو اپنا سیاسی موضوع بنا لیا۔‘‘مہاراشٹر میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ نے مزید الزام لگایا کہ مندر کے چندے سے نکالی گئی رقم کا تعلق اپوزیشن پارٹیوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے چلائی جانے والی سیاسی مہموں سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج بی جے پی کے دور حکومت میں رام مندر غلط وجوہات کی بنیاد پر سرخیوں میں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، اراکین اسمبلی کو گوا اور دیگر مقامات پر بھیجا جا رہا ہے اور اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کو ’آپریشن‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ کیا اب بی جے پی ’آپریشن رام مندر‘ بھی چلا رہی ہے؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مندر میں چوری کے ثبوت ملے ہیں۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ چرائی گئی رقم کا استعمال دوسری پارٹیوں کو توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔‘‘سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے 1990 کی دہائی کے ایک مشہور نعرہ کا حوالہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے برسر اقتدار پارٹی کو سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جس طرح اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار کہا تھا– اب ہندو مار نہیں کھائے گا، اسی طرح میں کہتا ہوں– اب ہندو معاف نہیں کرے گا۔ ہندو برادری مندر لوٹنے والوں کو ان کی اوقات دکھائے گی۔‘‘ ٹھاکرے نے کہا کہ دادر کا احتجاج ایک وسیع ریاست گیر مہم کا محض آغاز ہے۔ اتوار کے اس احتجاج کے بعد ہر ضلع، شہر اور گاؤں میں مقامی رام مندروں اور ہنومان مندروں پر اسی نوعیت کے احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔