تہران (04 جولائی 2026): بھوکا ملک ایران ہے یا امریکا؟ باقر قالیباف نے 4 کروڑ امریکیوں کے ’فوڈ اسٹیمپس‘ پر ہونے کا جوابی طعنہ دے دیا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی غذائی صورت حال سے متعلق دیے گئے حالیہ بیان پر جمعرات کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ آپ کے اپنے ملک کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں اور آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا قرار دے رہے ہیں۔انھوں نے لکھا ’’ذرا تصور کریں کہ آپ کے اپنے ملک کے چار کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہوں، اور آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا قرار دے رہے ہوں۔‘‘Imagine having forty-something million of your own citizens on food stamps and calling another nation hungry. This is not a proclamation. This is a projection. Keep your SNAP advice.Our assets, our choices. Mind your malnutrition rates.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) July 3, 2026قالیباف نے کہا ٹرمپ کا بیان حقیقت پر مبنی اعلان نہیں، بلکہ اپنی ہی صورت حال کا عکس ہے، اپنی اسنیپ اسکیم کے مشورے اپنے پاس رکھیں۔ انھوں نے کہا ہمارے وسائل ہمارے اپنے ہیں، ہمارے فیصلے بھی ہمارے اپنے ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ اپنے ملک میں غذائی قلت کی شرح پر توجہ دیں۔انسانی ہمدردی کی بنیاد پرایران کو خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی، ٹرمپقالیباف کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران 300 فی صد مہنگائی کا شکار ہے اور کوئی آمدنی نہیں کما رہا، ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ اگر جاری سفارتی مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو امریکا مستقبل میں ایران کو غذائی اجناس فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔ٹرمپ نے کہا تھا انھیں خوراک کی ضرورت ہے، انھیں مکئی، گندم اور سویابین چاہیے، اور ہم یہ سب صرف اپنے امریکی کسانوں کے ذریعے فراہم کریں گے۔