دہلی میں 'ورک فرام ہوم' کی سہولت ختم، ملازمین کو اب دفتر آنا ہوگا

Wait 5 sec.

دہلی حکومت نے قانونی نظم ونسق میں تبدیلی کرتے ہوئے  اپنے ملازمین کے لیے بدھ اور ہفتے کے روز نافذ کیے گئے ’ورک فرام ہوم‘ (ڈبلیو ایف ایچ) نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی کی وزیراعلی ریکھا گپتا نے اس فیصلے کو منظوری دے دی ہے۔ راجدھانی میں معمول کے انتظامی کام کاج کو پہلے کی طرح ہموار کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی ریکھا گپتا کی صدارت میں لیے گئے اس فیصلے کے تحت بدھ اور ہفتے کے روز نافذ ’ورک فروم ہوم‘ نظام کو اب فوری اثر سے واپس لے لیا گیا ہے۔Delhi CMO says, "Now that the geopolitical situation has practically normalised, Chief Minister Rekha Gupta has approved withdrawal of Work from Home on Wednesdays & Saturdays. The order will be issued today. And ⁠staggered timings for GNCTD have been revised to 10 am to 6:30 am… pic.twitter.com/RRpGkAA8sM— ANI (@ANI) July 4, 2026وزیر اعلیٰ دفتر (سی ایم او) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ احکامات آج (ہفتہ، 4 جولائی) کو جاری کر دیے جائیں گے۔ ’ورک فرام ہوم‘ ختم کرنے کے ساتھ ہی دہلی حکومت نے جی این سی ٹی ڈی کے سبھی سرکاری دفاتر کے اوقات میں تبدیلی کی ہے۔ نئے حکم کے مطابق سرکاری دفاتر صبح 10 بجے سے شام 6.30 بجے تک کھلے رہیں گے۔ دوسری جانب دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کا موجودہ ٹائم ٹیبل صبح 8:30 بجے سے شام 5 بجے تک پہلے کی طرح ہوگا۔ ایم سی ڈی دفاتر کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔سی ایم او نے کہا کہ اب جبکہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال تقریباً معمول پر آ چکی ہے تو ملازمین کو ہفتے میں 5 دن دفتر آنا ہوگا، ’ڈبلیو ایف ایچ‘ کی رعایت اب نہیں ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد انتظامیہ کے کام کاج کو مؤثر بنانا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی ریکھا گپتا نے اس سال مئی میں کئی اہم فیصلے لیے تھے۔ اس میں ہر ہفتے 2 دن ورک فرم ہوم، دفاتر کے اوقات میں تبدیلی اور اگلے ایک سال کے لیے سرکاری بیرون ملک سفر پر پابندی شامل تھی۔ یہ سبھی اقدامات سرکار کے ’میرا بھارت، میرا یوگدان‘ مہم کے تحت اٹھائے گئے تھے۔واضح رہے کہ ’میرا بھارت، میرا یوگدان‘ مہم 10 مئی کو وزیر اعظم مودی کی اپیل کے بعد شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے اہل وطن سے اپیل کی تھی کہ مغربی ایشیا بحران کے درمیان پٹرول ڈیزل کا استعمال کم کریں، غیر ضروری بیرون ملک کا سفر ملتوی کریں، سونے کی خریداری کم کریں اور ایندھن بچانے کے لیے دیگر اقدامات کریں۔