تہران: پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز بتایا کہ ان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں 10 روز کے دوران روزانہ 2 سے 5 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی بحریہ کے سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے کہا ’’30 اگست سے قبل کے 10 دنوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ہر رات دو سے پانچ ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔‘‘روئٹرز کے مطابق امریکی اور ایرانی افواج نے ہفتے کے روز ایران کے اردگرد سمندری پانیوں میں موجود بحری جہازوں پر بمباری کی، ان میں 3 ایرانی تیل بردار بحری جہاز بھی شامل تھے، جنھیں امریکی افواج نے نشانہ بنایا، جب کہ 3 ٹینکروں کو ایران نے اس وقت نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جب وہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں پر سفر کر رہے تھے۔امریکا میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے احتجاجی مظاہرے کی کال دے دیامریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے تین ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ایران کے تیل کی برآمد کے اہم مرکز کے قریب خارگ جزیرے کے ساحل سے دور موجود تھا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکی بحریہ کے دو جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ’’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہونا چاہیے: اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائر کریں گے تو ہم آپ پر اس سے بھی زیادہ معاشی قیمت عائد کریں گے، آپ کے تین جہاز تباہ کر کے۔‘‘پاسدارانِ انقلاب نے اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی بحری جہازوں کے خلاف مزید شدید حملوں کی دھمکی دی اور بعد میں کہا کہ اس نے ان تین ٹینکروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک 3 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ’’امریکی ’دہشت گرد‘ فوج کے دھوکے میں نہ آئیں اور غیر مجاز آبی راستوں سے گزرنے کی کوشش میں کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت سے گریز کریں۔ بہ صورتِ دیگر، آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘