ذات پر مبنی مردم شماری: ’مودی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں‘، کئی ریاستوں میں پریس کانفرنس کر کانگریس کا حملہ

Wait 5 sec.

’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ ہم انصاف اور یکساں حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی ڈاٹا نہیں ہے جس سے ملک میں لوگوں کی شراکت داری معلوم کی جا سکے۔ اسی لیے کانگریس صدر کھڑگے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی لگاتار مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ذات پر مبنی مردم شماری پر یک روزہ آل پارٹی میٹنگ طلب کرے، اسٹیک ہولڈرس سے بات کرے اور تلنگانہ ماڈل کو اختیار کرے۔‘‘ یہ بیان کانگریس کی سینئر لیڈر راگنی نایک نے آج مدھیہ پردیش کے اندور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ کانگریس کے دباؤ کے سبب مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کو راضی تو ہوئی ہے، لیکن اس کا طریقہ کچھ ایسا ہے جو اصل مقاصد کو حاصل نہیں کر پائے گا۔मोदी सरकार जातिगत जनगणना करवाना ही नहीं चाहती थी।हम न्याय और समान अधिकार की बात करते हैं, लेकिन हमारे पास ऐसा कोई आंकड़ा नहीं है, जिससे देश में लोगों की भागादारी मालूम की जा सके।इसलिए कांग्रेस अध्यक्ष श्री @kharge और नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi लगातार मांग कर रहे हैं कि… pic.twitter.com/wa6BbMP0Xa— Congress (@INCIndia) September 5, 2026دراصل کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق مودی حکومت کے ذریعہ اختیار کیے طریقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آج کئی ریاستوں میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پارٹی کے سرکردہ لیڈران نے ان پریس کانفرنسوں کے ذریعہ میڈیا کے سامنے کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے گجرات کے احمد آباد میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس صدر کھڑگے اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی طویل عرصہ سے ذات پر مبنی مردم شماری کا ایشو اٹھاتے رہے ہیں۔ ذات پر مبنی مردم شماری ملک کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے ہو جانے سے ملک میں لوگوں کی اصل شراکت داری یقینی کی جائے گی اور سب مل کر آگے بڑھیں گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے، اس سے صاف ہے کہ مودی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘कांग्रेस अध्यक्ष श्री @kharge और नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi लंबे अरसे से जातिगत जनगणना का मुद्दा उठा रहे हैं।जातिगत जनगणना देश के लिए बहुत जरूरी है, इसके हो जाने से देश में लोगों की असल भागीदारी सुनिश्चित की जाएगी और सब मिलकर आगे बढ़ेंगे।लेकिन देश में जातिगत जनगणना का जो… pic.twitter.com/AKkwGWpZze— Congress (@INCIndia) September 5, 2026کانگریس جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے اتر پردیش کے غازی آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی تو ہمیں پتہ چل پائے گا کہ ملک میں لوگوں کی کتنی شراکت داری ہے۔ لیکن تب پی ایم مودی نے ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرنے والوں کو ’اَربن نکسل‘ کہا تھا۔ حالانکہ ہمارے دباؤ کے سبب انھیں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کرنا پڑا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان تو مودی حکومت نے کر دیا، لیکن جس طرح یہ کرایا جا رہا ہے، اس میں ذات کے بارے میں سیلف-ڈکلیریشن کا متبادل دیا گیا ہے، جو کہ ایک طرح سے چالاکی ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم سبھی نے حکومت سے کہا ہے کہ بہار و تلنگانہ کا ماڈل اختیار کیا جائے، لیکن انھوں نے ہمارے مطالبات کو نظر انداز کر رکھا ہے۔‘‘नेता विपक्ष श्री राहुल गांधी ने 'भारत जोड़ो यात्रा' के दौरान जातिगत जनगणना का मुद्दा उठाया था।उनका कहना था कि यदि जातिगत जनगणना होगी तो हमें पता चल पाएगा कि देश में लोगों की कितनी भागीदारी है।लेकिन तब PM मोदी ने जातिगत जनगणना की बात करने वालों को 'अर्बन नक्सल' कहा था।… pic.twitter.com/2vT16B6j9k— Congress (@INCIndia) September 5, 2026ایک پریس کانفرنس اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بھی منعقد ہوئی، جس سے ڈاکٹر جئے ہند نے خطاب کیا۔ کانگریس او بی سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر جئے ہند نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں صدیوں سے 90 فیصد لوگوں کا استحصال ہوا ہے۔ چاہے کوئی کتنا بھی قابل ہو، اسے پیدائش کی بنیاد پر کام کرنا پڑتا تھا۔ ایسے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا، جائیداد رکھنے کا حق نہیں دیا گیا۔‘‘ موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’آج بھی بڑی بڑی کمپنیوں کے بڑے عہدوں پر ایس سی-ایس ٹی، او بی سی کے لوگ نہیں ملتے، میڈیا میں بھی ان کا نام نظر نہیں آتا۔ اس لیے ذات پر مبنی مردم شماری سے ہمیں ملک کا سماجی و معاشی ڈھانچہ سمجھ میں آئے گا، جس کے بعد مسئلہ کا حل تلاش کیا جا سکے گا۔‘‘हमारे देश में सदियों से 90% लोगों का शोषण हुआ है। चाहे कोई कितना भी काबिल हो, उसे जन्म के आधार पर काम करना पड़ता था। ऐसे लोगों को शिक्षा से दूर रखा गया, संपत्ति रखने का हक नहीं दिया गया।हालात ये हैं कि आज भी बड़ी-बड़ी कंपनियों के बड़े पदों पर SC-ST, OBC के लोग नहीं मिलते,… pic.twitter.com/zER0SeLhPp— Congress (@INCIndia) September 5, 2026دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے راجستھان کے جئے پور میں میڈیا سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ملک میں حالات ایسے بن گئے ہیں کہ امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ اس بڑھتے عدم مساوات کا سب سے زیادہ اثر غریب و محروم طبقات پر پڑ رہا ہے۔ ضرورت مند لوگوں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ ہی نہیں مل پا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی طویل مدت سے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن حکومت اسے نظر انداز کرتی رہی۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے کو سڑک سے لے کر ایوان تک مضبوطی کے ساتھ اٹھایا۔ اس دباؤ کے بعد مودی حکومت آخر میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کو مجبور ہوئی۔‘‘ دیویندر یادو نے بھی اس بات پر زور دیا کہ جب مردم شماری ہو رہی ہے، تو اس کو درست طریقے سے کیا جائے تاکہ محروم طبقات کو فائدہ پہنچ سکے۔आज देश में हालात ऐसे बन गए हैं कि अमीर और अमीर होता जा रहा है, जबकि गरीब और गरीब होता जा रहा है।इस बढ़ती असमानता का सबसे ज्यादा असर गरीब और वंचित वर्गों पर पड़ रहा है। जरूरतमंद लोगों को सरकारी योजनाओं का लाभ ही नहीं मिल पा रहा है। कांग्रेस पार्टी लंबे समय से जातिगत जनगणना… pic.twitter.com/b2jIUEEbZQ— Congress (@INCIndia) September 5, 2026بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بھی ایک پریس کانفرنس ہوئی، جس سے کانگریس کے سینئر لیڈر مانک راؤ نے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس صدر کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مستقل ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ اٹھا رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ مودی حکومت درست طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی۔ وہ صرف وقت کاٹ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے فارم میں او بی سی کا کالج ہی ہٹا دیا گیا ہے۔कांग्रेस अध्यक्ष श्री @kharge और नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi लगातार जातिगत जनगणना की मांग उठा रहे हैं।लेकिन लगता है कि मोदी सरकार सही तरीके से जातिगत जनगणना करवाना ही नहीं चाहती- वो सिर्फ समय काट रही है।ऐसा इसलिए क्योंकि जातिगत जनगणना के फॉर्म में OBC का कॉलम ही हटा दिया… pic.twitter.com/jRnmEzRTXf— Congress (@INCIndia) September 5, 2026