واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں کئی تیل پائپ لائنیں بن رہی ہیں، جن سے آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔وائٹ ہاؤس میں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بہت سے متبادل موجود ہیں، ہرمز میں تیل پائپ لائنیں متبادل ہو سکتی ہیں، نئی پائپ لائنوں سے آبنائے پر انحصار کم ہو جائے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران شام کے راستے تیل لے جانے والے ٹرکوں کی طرف اشارہ کیا، اور کہا شام کے راستے تیل کی ترسیل بھی آبنائے کا متبادل ہے، تیل بردار ٹرک شام سے گزرتے ہیں، ہرمز کی اہمیت کم کرنے کے لیے کئی متبادل موجود ہیں۔ٹرمپ نے کہا مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی بہت سی پائپ لائنیں تعمیر کی جا رہی ہیں، ایران اب آبنائے ہرمز ہی کے ساتھ ختم ہو جائے گا، اس کی اب ضرورت ہی نہیں رہی ہے۔ایران جنگ: ٹرمپ نے ایران جنگ میں امریکیوں کی ہلاکتوں کو تسلیم کر لیایاد رہے کہ جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ خطے میں توانائی اور تجارت کے ایک متبادل راہداری کے طور پر شام کا کردار بڑھ رہا ہے، اس رپورٹ پر صدر ٹرمپ نے پُرجوش ردِعمل ظاہر کیا تھا، رپورٹ کے مطابق روزانہ تقریباً 5 ہزار تیل سے لدے ٹرک جنوبی عراق سے شام کے علاقے سے گزرتے ہوئے بحیرۂ روم کی بندرگاہ بانیاس کی جانب جا رہے ہیں۔یہ ترسیل اپریل میں عراقی تیل برآمد کنندگان کی جانب سے ایک محدود آزمائشی اقدام کے طور پر شروع ہوئی تھی، جو آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرنے کے لیے ایک متبادل راستہ تلاش کر رہے تھے، تاہم بعد میں یہ ایک بڑے پیمانے کی کارروائی میں تبدیل ہو گئی۔جولائی میں ٹرمپ انتظامیہ نے شیورون کی قیادت میں ایک پائپ لائن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا تھا، جس کا مقصد جنوبی عراق کے شہر بصرہ سے روزانہ 20 لاکھ بیرل تک خام تیل بانیاس پہنچانا ہے۔ مجوزہ پائپ لائن تقریباً ایک ہزار میل طویل ہوگی اور اس کی لاگت کا تخمینہ 5.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جب کہ اس کی تعمیر میں کم از کم ڈھائی سال لگنے کی توقع ہے۔سی این این نے اس سے قبل شام کے راستوں کو خلیجی ریاستوں کے لیے سامان کی ترسیل اور دوبارہ برآمد کے متبادل راستوں کے طور پر اجاگر کیا تھا۔ رپورٹ میں نشان دہی کی گئی تھی کہ علاقائی طاقتیں آبنائے ہرمز سے ہٹ کر زیادہ متنوع تجارتی راستوں کی تلاش کر رہی ہیں، جس کے باعث شام اور اردن ممکنہ راہداریوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔