ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح پر آگئی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (6 ستمبر 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت تاریخ میں کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ فنانشل ٹائمز اور برطانوی پولنگ ادارے فوکل ڈیٹا کے تازہ قومی سروے کے مطابق صرف 33 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کی منظوری دی، جو اس سروے میں ٹرمپ کی اب تک کی کم ترین سطح ہے۔سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، اور ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت ریپبلکن امیدواروں کے لیے بھی سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ریپبلکن ووٹرز میں بھی حمایت کمرپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو اپنی ہی ریپبلکن جماعت کے ووٹرز میں بھی پہلے کے مقابلے میں کم حمایت مل رہی ہے۔ تازہ سروے میں صرف 72 فیصد ریپبلکن ووٹرز نے صدر کی مجموعی کارکردگی کی منظوری دی، جو مئی کے بعد اس گروپ میں بھی کم ترین سطح قرار دی گئی ہے۔یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کرنسی اور پاسپورٹ کا حصہ بن گئےاقتصادی معاملات پر صورتحال مزید مشکل دکھائی دیتی ہے۔ ریپبلکن ووٹرز میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی منظوری 53 فیصد تک گر گئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً آٹھ پوائنٹس کی کمی ہے۔مہنگائی اور اخراجات بڑا مسئلہسروے میں ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معیشت اور روزمرہ اخراجات بن کر سامنے آیا۔ تقریباً 57 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ان کی مالی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے۔مہنگائی، خوراک، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد حکومت کی معاشی کارکردگی سے ناخوش ہے۔ فوکل ڈیٹا کے سابقہ سرویز میں بھی مہنگائی اور لاگتِ زندگی ٹرمپ کی مقبولیت کے لیے اہم کمزوریاں سامنے آ چکی ہیں۔تجارتی پالیسی بھی تنقید کی زد میںٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی بھی عوامی عدم اطمینان کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق کینیڈا سمیت تجارتی شراکت داروں پر نئے محصولات نے قیمتوں اور اقتصادی دباؤ کے حوالے سے خدشات بڑھائے ہیں۔وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹیسروے میں ٹرمپ کی انتخابی مہم میں شمولیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھے ہیں۔ 46 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیاں ریپبلکن امیدواروں کے لیے انتخابات جیتنا مزید مشکل بنا رہی ہیں، جبکہ یہ رائے خاص طور پر آزاد ووٹرز میں نمایاں ہے۔دوسری جانب ڈیموکریٹس کوجنیریک کانگریشنل بیلٹ میں برتری حاصل ہے۔ تازہ ترین سروے میں ڈیموکریٹس کی برتری گزشتہ سروے کے مقابلے میں مزید مضبوط دکھائی دی، جس سے نومبر کے انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کے لیے سخت مقابلے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ایران جنگ اور خارجہ پالیسی بھی اثراندازٹرمپ کی مقبولیت میں کمی صرف معیشت تک محدود نہیں۔ رائٹڑز کے حالیہ سروے میں بھی ٹرمپ کی منظوری 33 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی اور قیمتوں کے دباؤ پر امریکی عوام کی تشویش نمایاں رہی۔ایک الگ این بی سی نیوز سروے میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری 36 فیصد رہی، جبکہ ایران سے متعلق ان کی پالیسی کو صرف 31 فیصد نے منظور کیا اور 69 فیصد نے اسے مسترد کیا۔ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی امتحانتجزیہ کاروں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنی مقبولیت بحال کر پاتے ہیں یا نہیں۔ صدر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیں گے اور اہم ریاستوں اور حلقوں میں پارٹی امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلائیں گے۔فنانشل ٹائمز اور فوکل ڈیٹا کے تازہ سروے میں 1,914 رجسٹرڈ ووٹرز شامل تھے اور سروے کی رپورٹ شدہ غلطی کی حد تقریباً 2.6 فیصد پوائنٹس ہے۔یوں نومبر کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کو ایک طرف اپنی معاشی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور دوسری جانب اپنی جماعت کے امیدواروں کو کم ہوتی مقبولیت کے ممکنہ اثرات سے بچانے کا دوہرا چیلنج درپیش ہے۔