بہار میں گنگا کا سیلابی دباؤ بڑھ گیا، پٹنہ میں پانی تاریخی حد سے اوپر؛ پانچ اضلاع میں شدید نگرانی

Wait 5 sec.

بہار میں گنگا ندی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ پٹنہ کے گاندھی گھاٹ پر گنگا کا پانی اب تک کی بلند ترین سیلابی سطح سے بھی اوپر پہنچ گیا ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ آب وسائل نے دریا کے نچلے بہاؤ والے علاقوں میں خصوصی چوکسی اختیار کرنے اور پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی ہے۔محکمہ آب وسائل کی جانب سے اتوار کو جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ گاندھی گھاٹ پر پانی کی سطح میں ہونے والے اضافے کا اثر اب گنگا کے نچلے بہاؤ والے علاقوں پر پڑے گا۔ اس کا اثر آئندہ ایک سے تین دن کے دوران ہاتھیداہ اور اس کے بعد واقع نگرانی کے مقامات پر نمایاں ہونے کا امکان ہے۔محکمے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہاتھیداہ میں بھی گنگا کی سطح سابقہ بلند ترین سیلابی نشان سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے پیش نظر بےگوسرائے، لکھی سرائے، مونگیر، بھاگلپور اور کٹیہار اضلاع میں گنگا کے کنارے آباد علاقوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔متعلقہ اضلاع کے حکام اور مقامی افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی کی سطح میں ہونے والی معمولی سے معمولی تبدیلی پر بھی مسلسل نظر رکھیں۔ محکمہ نے دریا کی سطح کے ساتھ ساتھ حفاظتی پشتوں، کمزور مقامات اور نشیبی علاقوں کی باقاعدہ جانچ یقینی بنانے کے لیے کہا ہے، تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری وسائل اور مشینری کو پہلے سے تیار رکھا جائے۔ حساس علاقوں میں صورتحال کے مطابق حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کو پوری طرح چوکس رکھا جائے۔محکمہ آب وسائل نے گنگا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور دریا کے قریب جانے سے گریز کریں۔ خاص طور پر غیر ضروری طور پر دریا کے کنارے جمع ہونے یا پانی کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔مقامی انتظامیہ کو کشتیوں کی آمدورفت پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کشتیوں میں مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد سوار کرنے سے روکنے اور لوگوں کو پانی کی سطح میں اضافے اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مسلسل آگاہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔محکمہ آب وسائل کے مطابق گنگا کے نچلے بہاؤ والے علاقوں میں پانی کی سطح مزید بڑھنے کے امکان کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، آب وسائل کے حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ حکام کو صورتحال کا مسلسل جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔