مہاراشٹر میں دہی ہانڈی کا تہوار پورے جوش و خروش اور دھوم دھام کے ساتھ منایا گیا۔ ممبئی، ٹھانے اور آس پاس کے علاقوں میں ہزاروں گووندا ٹیم انسانی غول بنا کر دہی ہانڈی پھوڑنے کے لیے میدان میں اترے۔ تاہم، تہوار کے دوران کئی جگہ حادثات بھی سامنے آئے ہیں۔ ممبئی میں دہی ہانڈی تہوار کے دوران محض چند گھنٹوں میں 22 گووندا زخمی ہو گئے، جنہیں شہر کے مختلف سرکاری اور میونسپل کارپوریشن اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کے مطابق 5 ستمبر کو دوپہر 12 بجے تک دہی ہانڈی تہوار کے دوران مجموعی طور پر 22 گووندا زخمی ہوئے۔ ان میں سے 21 زخمیوں کو ابتدائی علاج اور ضروری طبی سہولت فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ جبکہ ایک زخمی شخص کا علاج ابھی اسپتال میں جاری ہے۔ٹھانے میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوہے کا محراب گرنے سے 45 سالہ خاتون سلمیٰ پٹھان سنگین طور پر زخمی ہو گئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ رات کے وقت دہی ہانڈی سے جڑا انتظام ہٹانے کا کام چل رہا تھا، تبھی لوہے کا ایک حصہ خاتون کے سر پر گر گیا۔ انھیں سنگین حالت میں اسپتال پہنچایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔اس درمیان مدھیہ پردیش کے جبل پور میں دہی-ہانڈی جشن کا دلچسپ نظارہ دیکھنے کو ملا۔ جبل پور میں 30 فٹ گہرے تالاب پر 120 فٹ کا فاصلہ اور 50 فٹ کی بلندی پر ہوا میں جھولتی دہی ہانڈی نے سبھی کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ یہ کوئی ایڈونچر اسپورٹس کا سیٹ نہیں بلکہ جبل پور سے 45 کلومیٹر دور واقع کوان کھیڑا گاؤں کا وہ سالانہ اکھاڑا ہے، جہاں جنم اشٹمی کے موقع پر قوت اور توازن کا سب سے سخت امتحان لیا جاتا ہے۔ موبائل کی اسکرین پر انگوٹھا رگڑنے والی نسل کو زمین اور پانی پر اتارنے کا یہ دیسی طریقہ اب ’مہاکوشل‘ کا سب سے انوکھا تہوار بن چکا ہے، جسے دیکھنے کے لیے آس پاس کے لوگ بڑی تعداد میں پہنچتے ہیں۔جمعہ کی صبح سے ہی کوان کھیڑا کا ماحول بدلا ہوا تھا۔ رم جھم پھواروں کے درمیان گاؤں کا 120 فٹ چوڑا تالاب کسی جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکا تھا۔ 2 عظیم برگد کے درختوں کے درمیان 50 فٹ کی بلندی پر کسی گئی رسی پر مٹکی لٹکی ہوئی تھی۔ شرط صرف ایک تھی کہ ہاتھوں کے بل لٹک کر مٹکی تک پہنچنا ہے، لیکن راستہ اتنا آسان نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی مقابلہ کرنے والا درخت پر چڑھ کر رسی کے سہارے آگے بڑھتا، کنارے پر کھڑے دیہاتی دونوں سروں سے رسی کو پوری طاقت سے جھنجھوڑنا شروع کر دیتے۔ ایک طرف تیزی سے ہلتی رسی، دوسری طرف ہاتھوں کی گرفت چھڑاتی بارش کی بوندیں، دیکھتے ہی دیکھتے ایک کے بعد ایک 210 بہادر گووندا سیدھے 30 فٹ گہرے پانی میں جا گرے۔ تالاب میں چھپاک کی آوازوں اور دیہاتیوں کے شور کے درمیان مقابلہ دیر شام تک کھنچ گیا۔ پھر گرام سندرادیہی کے گنپت سنگھ کی انٹری ہوئی۔ گنپت نے نہ صرف زور زور سے ہلتی رسی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی بلکہ دیہاتیوں کی تمام کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 50 فٹ کی بلندی پر لٹکی ہانڈی کو پھوڑ ڈالا۔ گنپت کے مٹکی پھوڑتے ہی پورا گاؤں تالیوں سے گونج اٹھا۔یہ مقابلہ ختم ہونے کے بعد کمیٹی نے گنپت کو 5100 روپے کی نقد رقم دی، جبکہ دیہاتیوں نے بھی اپنی جیب سے رضاکارانہ طور پر انعام دے کر اس ہیرو کا احترام کیا۔ آج جب ملک کا نوجوان اسمارٹ فون پر ریلز دیکھنے میں گھنٹوں گزار دیتا ہے، تب کوان کھیڑا کا یہ انعقاد صحت اور نظم و ضبط کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ شکتی مائی سیوا سمیتی کے صدر رامیشور پچوری بتاتے ہیں کہ 15 سال پہلے گاؤں کے ہی کچھ نوجوانوں نے اس منفرد روایت کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا مقصد تھا نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنا، موبائل کی لت سے نکالنا اور جسمانی طور پر مضبوط بنانا۔