امریکا نے جنگ شروع کی اور دنیا کو بل تھما دیا: اسماعیل بقائی

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ شروع کرنے کے بعد اس کے اثرات اور اخراجات کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرانے کی کوشش شروع کردی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے قبل آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری تھی۔تاہم حملوں کے بعد خطے میں غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ شروع ہوئی جس سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔اُنہوں نے کہا کہ امریکا اب اپنی پیدا کردہ صورتحال کا ’بل‘ پوری دنیا کو پیش کرنے اور اس پر ایران کا نام لکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے ایسی جنگ کو جو امریکا نے شروع کی، ایران کے رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی لاگت کے طور پر پیش کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکا نے جنگ شروع کی لیکن اب پوری دنیا سے اس کی قیمت ادا کرنے کی توقع کررہا ہے، جبکہ ایران کو اس افراتفری کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ہم تیل فروخت کرکے اس کی ادائیگی بھی وصول کر رہے ہیں، محسن رضائیواضح رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات نمایاں ہیں۔