وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ (5 ستمبر 2026) کو دہلی یونیورسٹی کے ’شری رام کالج آف کامرس‘ یعنی ایس آر سی سی کی صد سالہ تقریب میں شرکت کی۔ اس پروگرام میں انہوں نے کئی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔ اب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نریندر مودی جی کل دہلی یونیورسٹی کے ایس آر سی سی میں گئے۔ یہ ملک کے نوجوانوں، تعلیم اور ان کے مستقبل پر بات چیت کا ایک موقع تھا۔ لیکن افسوس، نوجوانوں کے سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے تقریر ایک بار پھر سیاسی تشہیر میں بدل گئی۔‘‘.@narendramodi जी कल दिल्ली विश्वविद्यालय के SRCC में गए। यह देश के युवाओं, शिक्षा और उनके भविष्य पर संवाद का अवसर था। लेकिन अफसोस, युवाओं के सवालों का सामना करने के बजाय भाषण फिर एक राजनीतिक प्रचार में बदल गया।मोदी जी की Modus Operandi — लोकतंत्र में सवालों को दबाने के लिए…— Mallikarjun Kharge (@kharge) September 6, 2026کانگریس صدر مزید لکھتے ہیں کہ ’’مودی جی کا طریقۂ کار رہا ہے کہ جمہوریت میں سوالات کو دبانے کے لیے ہر سال اپوزیشن کو ایک نیا لقب دینا، تاکہ ان کی اپنی ناکامیاں چھپی رہیں! جیسے ناراض پھوپھا، دماغی نکسل، اربن نکسل، خان مارکیٹ گینگ، آندولن جیوی اور پر جیوی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’القابات بدلتے رہتے ہیں، لیکن مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیاں نہیں بدلتی ہیں۔‘‘ملکارجن کھڑگے نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’مودی جی، آؤٹ ریچ کی ضرورت اسی وقت پڑتی ہے، جب آپ آؤٹ آف ریچ ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنا ’رپورٹ کارڈ‘ دکھایا۔ ملک کا نوجوان بھی اپنا رپورٹ کارڈ لے کر کھڑا ہے۔ اس رپورٹ کارڈ میں شامل ہیں، بے روزگاری، برسوں سے زیر التوا سرکاری بھرتیاں، پیپر لیک سے پریشان طلبہ، مہنگی ہوتی تعلیم، اسکالرشپ کے مواقع میں کمی اور یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر بڑھتا دباؤ۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ ’’چھاتروں کی گونج کو سنیے، ادھر ادھر کی باتوں سے حل نہیں نکلے گا!!‘‘’شری رام کالج آف کامرس کو بھی پی ایم مودی نے انتخابی پلیٹ فارم بنا دیا‘، طلبا کی انٹری روکنے پر کانگریس نے اٹھایا سوالملکارجن کھڑگے سے قبل کانگریس کے نوجوان لیڈر کنہیا کمار نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو دہلی یونیورسٹی کے ’شری رام کالج آف کامرس‘ کی صد سالہ تقریب میں شرکت پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا تھا کہ ’’جب نریندر مودی 2013 میں دہلی یونیورسٹی گئے تھے، تب وہاں انھوں نے کہا تھا– اگر نصف گلاس پانی سے بھرا ہے تو نصف گلاس میں ہوا بھری ہے۔ لیکن اب سمجھ آیا کہ نصف گلاس میں پی آر بھرا ہے۔ نریندر مودی آج پھر ایس آر سی سی گئے، لیکن اس میں چنندہ طلبا کو ہی بلایا گیا، باقی طلبا کی انٹری روک دی گئی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ضروری یہ ہے کہ جس ایس آر سی سی نے ملک کو اتنا کچھ دیا ہے، مودی جی نے اسے بھی اپنا انتخابی پلیٹ فارم بنا دیا ہے، کیونکہ 18 ستمبر کو دہلی یونیورسٹی میں طلبا یونین کا انتخاب ہے۔‘‘जब नरेंद्र मोदी 2013 में दिल्ली विश्वविद्यालय गए थे, तब वहां उन्होंने कहा था- अगर आधा ग्लास पानी से भरा है, तो आधे ग्लास में हवा भरी है- लेकिन अब समझ आया कि आधे ग्लास में PR भरा है।नरेंद्र मोदी आज फिर SRCC गए हैं, लेकिन इसमें चुनिंदा Alumni को ही बुलाया गया और बाकी छात्रों की… pic.twitter.com/uaClDVLGK3— Congress (@INCIndia) September 5, 2026