اسپیس سیکٹر کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولے جانے سے متعلق ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ (اسرو) کے ملازمین کو اب تشویش ستانے لگی ہے۔ اسرو کے ہزاروں ملازمین کی نمائندگی کرنے والی 9 تنظیموں نے اسپیس ایجنسی کے مینوفیکچرنگ اور آپریشنل کاموں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز پر آفیشیل وضاحت طلب کی ہے۔ ملازمین کی تنظیموں نے اسرو کے چیئرمین وی نارائنن کو خط لکھ کر ایجنسی کی نجکاری کی سمت، موجودہ ملازمین اور ایجنسی کے مستقبل کے کردار پر اس کے اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ خط اسرو کے ’جی ایس ایل وی‘ راکٹ کے ذریعے ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ (زمین پر نظر رکھنے والا سیٹلائٹ) کو کئی ماہ کے وقفے کے بعد کامیابی سے لانچ کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد بھیجا گیا تھا۔ اسرو کے کئی مراکز کے ملازمین کی یونینوں نے اس خط پر دستخط کیے ہیں۔خط پر جن یونینوں کے دستخط ہیں، ان میں اسرو اسٹاف ایسوسی ایشن، ایس ایچ اے آر ایمپلائز ایسوسی ایشن، آئی ایس اے سی ایمپلائز ایسوسی ایشن، اسرو اسٹاف ایسوسی ایشن-ایل پی ایس سی، اسرو اسٹاف ایسوسی ایشن-بی بی یو، این آر ایس اے ایمپلائز یونین، اسپیس ایمپلائز ایسوسی ایشن-بی بی یو، اسرو اسٹاف ایسوسی ایشن-آئی پی آر سی اور ایس اے سی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (آئی این-ایس پی اے سی ای) کے چیئرمین پون کمار گوئنکا نے حال ہی میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ اب اسرو کوئی بھی لانچ وہیکل نہیں بنائے گا اور نہ ہی ان کی تیاری کرے گا۔ یہ سارا کام نجی شعبہ یا پی ایس یو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) کے ساتھ یہ تبدیلی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور یہ پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) اور ایل وی ایم3 تک بھی بڑھ سکتی ہے۔اسرو-آئی سی آر بی بھرتی 2026: اسسٹنٹ سمیت 244 آسامیوں پر بھرتی، درخواست کی آخری تاریخ 16 اگستانہوں نے ان لانچ وہیکلز کی پروڈکشن کو دوسری جگہ منتقل کرنے، اسرو سے باقاعدہ سیٹلائٹ بنانے کا کام ہٹانے اور نجی کمپنیوں کے لیے نئے لانچ انفراسٹرکچر کھولنے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ خط میں ان تقریباً 120 ٹیکنالوجیز کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں اسرو سے نجی شعبے کو پہلے ہی منتقل کیا جا چکا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ بیانات قومی سطح پر موضوع بحث رہے ہیں۔ حالانکہ محکمۂ خلاء کی جانب سے اپنے ملازمین کو منظور کی گئی پالیسی، اس کے قانونی اور انتظامی بنیاد، اسے نافذ کرنے والی موجودہ افرادی قوت اور مستقبل میں سرکاری بھرتی پر اس کے اثرات کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات نہیں دی گئی ہیں۔‘‘ خط میں کہا گیا ہے کہ لانچ وہیکل کا ڈیزائن، اسے تیار کرنا، انٹیگریشن، ٹیسٹنگ اور لانچ آپریشن صرف ’مینوفیکچرنگ کنٹریکٹ‘ نہیں ہیں، بلکہ یہ تنظیم کی بنیادی صلاحیت، ادارہ جاتی معلومات اور اسٹریٹجک صلاحیت ہیں۔