مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ساگر میں زہریلی شراب پینے سے تقریباً 15 افراد کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں شراب اور ڈرگ مافیا بے خوف ہو کر اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور عام لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی فوری عدالتی جانچ کرانے اور قصورواروں کو 24 گھنٹے کے اندر جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔Bhopal, Madhya Pradesh: Congress State President Jitu Patwari says, "Around 15 people have died in Sagar today due to poisonous liquor. A few days ago as well, there was an incident involving poisonous liquor there. Across the state, the liquor mafia is continuously operating… pic.twitter.com/8K9hedC4Cc— IANS (@ians_india) September 6, 2026جیتو پٹواری نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ساگر میں زہریلی شراب سے موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل شاہ پورہ میں بھی 9 افراد کی موت ہوئی تھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وہ پہلے خود ساگر جا کر متاثرہ خاندانوں سے مل چکے ہیں اور وہاں لوگوں میں نشے کے بڑھتے اثرات کو لے کر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس دوران کانگریس لیڈر نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو لکھے اپنے سابقہ خط کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وہ پہلے ہی حکومت کو ریاست میں غیر قانونی شراب اور نشیلی اشیاء کے بڑھتے کاروبار سے آگاہ کر چکے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراب مافیا کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث کئی خاندانوں کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ساگر کا تازہ واقعہ جس میں تقریباً 15 افراد کی موت ہوئی ہے، انتہائی سنگین معاملہ ہے اور حکومت کو فوری طور پر سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ جیتو پٹواری نے کہا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جان جانے کے بعد بھی انتظامیہ غیر فعال رہتی ہے تو یہ حکومت کی جوابدہی اور اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت شراب مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور مکمل عدالتی جانچ ہونی چاہیے، تاکہ واقعے کے ذمہ دار افراد کی شناخت ہو سکے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔مدھیہ پردیش کے ساگر میں زہریلی شراب پینے سے 9 افراد کی موت، 35 اسپتال میں داخلدوسری جانب جیتو پٹواری نے راہل گاندھی کے 19 ستمبر کو اندور آنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پروگرام غیر سیاسی ہے۔ اس کا مقصد تعلیم کے مستقبل اور طلبہ کی سلامتی سے متعلق مسائل پر گفتگو کرنا ہے۔ ان کے مطابق پروگرام میں بچوں کو روزگار پر مبنی تعلیم فراہم کرنے اور مدھیہ پردیش میں کے جی سے پی جی تک مفت تعلیم یقینی بنانے جیسے موضوعات پر زور دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کے دورے کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے، بلکہ تعلیمی نظام کے مستقبل پر گفتگو کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔