دہلی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ڈی او ای) نے اتوار کو کہا کہ دہلی میں تمام سرکاری دفاتر اور اسکول 11 ستمبر کو بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ آئندہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کو دیکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے ایک سرکلر جاری کر کہا کہ محکمہ کے تحت آنے والے سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ تسلیم شدہ پرائیویٹ اسکولوں میں 11 ستمبر کو چھٹی رہے گی۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ایک افسر نے جمعرات (6 ستمبر) کو بتایا کہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس سے متعلق سیکورٹی، لاجسٹسک انتظامات اور گاڑیوں کے قافلوں کی آمد و رفت کے پیش نظر سڑکوں پر لوگوں کو کم از کم پریشانی ہو، اس کے لیے مرکزی اور دہلی حکومت کے دفاتر 11 ستمبر کو بند رہیں گے۔ہندوستان آج نئی دہلی میں 12ویں ’برکس‘ وزرائے ماحولیات اجلاس کی میزبانی کرے گاواضح رہے کہ اس بین الاقوامی اجلاس سے قبل دہلی ٹریفک پولیس اجلاس کے دوران ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے ریہرسل کر رہی ہے۔ 11 سے 13 ستمبر تک ہونے والے پروگراموں کے لیے ٹریفک مینجمنٹ ڈرل کے تحت ٹریفک پولیس نے 22 جگہوں پر ٹریفک ڈائیورژن اور 35 سے زائد سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بدھ کو برکس بزنس فورم اور 18ویں برکس سربراہی اجلاس سے قبل موٹر کارکیڈ کی ریہرسل کے لیے ٹریفک پولیس نے صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان ٹریفک پر پابندی اور ڈائیورژن نافذ کیں۔12 اور 13 ستمبر کو ہفتہ اور اتوار ہونے کی وجہ سے سربراہی اجلاس سے متعلق انتظامات سنبھالنے والے ٹریفک مینیجروں کے لیے ٹریفک کا انتظام کرنا نسبتاً کم چیلنجنگ ہونے کی امید ہے۔ اس دوران ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ کو فروغ دیتے ہوئے دہلی ٹریفک پولیس قومی راجدھانی کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کا ریئل ٹائم ویو (اوپر سے منظر) حاصل کرنے کے لیے ڈرون کا استعمال کر رہی ہے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس وجینتا گوئل آریا نے یہ اطلاع دی۔گوئل آریا نے بتایا کہ ٹریفک کی حقیقی وقت کی صورت حال کا جائزہ لینے، جام والی جگہوں کی شناخت کرنے اور وقت پر ضروری اقدامات کرنے کے لیے اہم چوراہوں، مرکزی سڑکوں اور جام کے شکار کوریڈور پر ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ اوپر سے نگرانی کرنے سے ٹریفک ٹیموں کو جام کی صورت حال پر نظر رکھنے اور گاڑیوں کی آمد و رفت کو رواں دواں بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بین ریاستی سرحدی مقامات اور ان جگہوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ ڈرون سے ملنے والی معلومات سے قطاروں کی لمبائی اور پھیلاؤ کا اندازہ لگانے، جام والے مقامات کی شناخت کرنے اور زمینی سطح پر بہتر نظم و ضبط اور ٹریفک ہٹانے کی حکمت عملی بنانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘