’نہ نجکاری ہوگی اور نہ ہی اہمیت میں کمی‘، پرائیویٹائزیشن کے دعووں پر اِسرو کی وضاحت آئی سامنے

Wait 5 sec.

’ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم‘ (اسرو) نے اپنی نجکاری اور کردار کو کم کیے جانے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں۔ اسرو نے صاف لفظوں میں کہا کہ نہ تو اس کی نجکاری کی جا رہی ہے اور نہ ہی خلائی شعبے میں اس کی اہمیت کم کی جائے گی۔ اسرو نے واضح کیا کہ ہندوستان کے خلائی پروگرام میں اس کا کردار پہلے کی طرح انتہائی اہم برقرار رہے گا۔’اسرو‘ کی نجکاری پر بحث سے متعلق ملازمین کی تشویش میں اضافہ، چیف سے طلب کی وضاحتاسرو کا یہ بیان ان رپورٹس کے سامنے آنے کے کچھ عرصے بعد آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ اسرو کے ہزاروں ملازمین کی نمائندگی کرنے والی 9 تنظیموں نے خلائی ایجنسی کے مینوفیکچرنگ اور آپریشنل کام نجی اداروں کو سونپنے کی تجویز پر وضاحت مانگی تھی۔ اسرو نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اسرو کی نہ تو نجکاری کی جائے گی اور نہ ہی اس کی اہمیت کم ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اسرو جدید خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی اور اسٹریٹجک مشنوں، خلائی سائنس و دریافت اور اہم و سرحدی خلائی صلاحیتوں کے لیے ہندوستان کا اہم ادارہ بنا رہے گا۔‘‘اسرو نے کہا کہ خلائی شعبہ میں پرائیویٹ شعبے کی شمولیت کا مقصد کسی بھی طرح اسرو کے کردار کو کم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اسرو کو ہندوستان کے خلائی پروگرام کی اگلی نسل پر مزید مضبوطی کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنانا ہے، جبکہ صنعت پختہ ٹیکنالوجیز اور صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر ترقی دے گی۔ ایجنسی نے کہا کہ جو بھی تبدیلی ہو رہی ہے، وہ اسرو کی اہمیت میں نہیں بلکہ ہندوستان کے خلائی ایکو سسٹم کے ڈھانچے اور پیمانے میں ہو رہی ہے۔ISRO posts clarification regarding media reports on concerns relating to Space Sector Reforms and the role of ISROISRO tweets, "There has been considerable reporting in parts of the media around the future role of ISRO including speculations and misinformation that there is an… https://t.co/awcIDTNYv1 pic.twitter.com/yWQGDgbXni— ANI (@ANI) September 6, 2026اسرو کے مطابق خلائی شعبے میں صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کی شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ملک کے موجودہ خلائی ڈھانچے اور صلاحیتوں میں توسیع کرنا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ ان اصلاحات کو نجکاری کے بجائے خلائی شعبے کی توسیع اور صلاحیتوں میں کئی گنا اضافے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اسرو کے مطابق تبدیلی اس کی اہمیت میں نہیں بلکہ ہندوستان کے پورے خلائی نظام کے حجم اور کام کرنے کے طریقے میں ہو رہی ہے۔اسرو نے کہا کہ یہ تبدیلی اس کے اسپیس ویژن 2047 کے لیے اہم ہے، جس کا مقصد 2035 تک ہندوستانی خلائی اسٹیشن کا قیام کرنا اور 2040 تک ہندوستانی خلابازوں کو چاند پر بھیجنا ہے۔ اس کے علاوہ اگلی نسل کے لانچ وہیکل اور دوبارہ استعمال کیے جا سکنے والے راکٹ تیار کرنا، چاند اور دوسرے سیاروں کی طویل مدت تک کھوج جاری رکھنا اور ہندوستان کو دنیا کی بڑی خلائی طاقتوں میں شامل کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تکنیکی طور پر چیلنجنگ مشن ہیں، جن کے لیے اسرو کو جدید تحقیق اور صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی، جنہیں تجارتی سرگرمیوں سے آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس کا مقصد صنعت کو پختہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل بنانا ہے، جبکہ اسرو ہندوستان کو اگلی تکنیکی سرحد کی طرف لے جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ پرائیویٹائزیشن کی خبروں کے بعد اسرو کے ملازمین میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔ 4 ستمبر کو ملازمین کی 9 تنظیموں نے اسرو کے چیئرمین اور محکمۂ خلاء کے سکریٹری وی نارائنن کو خط لکھ کر حکومت کی نجکاری پالیسی اور تنظیم کے مستقبل کے کردار پر صورتِ حال واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان تنظیموں میں اسرو کے کئی مراکز سے وابستہ ملازم تنظیمیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میڈیا میں آنے والی خبروں سے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے درمیان تشویش کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ تنظیموں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ مجوزہ تبدیلیوں کا موجودہ ملازمین اور مستقبل میں ہونے والی بھرتیوں پر کیا اثر پڑے گا۔