ایئر انڈیا نے کی بڑی کارروائی، نشے کی حالت میں طیارہ اڑانے والے پائلٹ کو ملازمت سے نکالا

Wait 5 sec.

فکیٹ-دہلی پرواز حادثے سے متعلق ’ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو‘ (اے اے آئی بی)  کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایئر انڈیا نے بڑی کارروائی کی ہے۔ ایئر لائن نے فلائٹ کے ’پائلٹ ان کمانڈ‘ کی ملازمت فوری طور پر ختم کر دی ہے۔ جانچ میں پائلٹ کا ’سائیکو ایکٹیو‘ مادّے کے لیے کیا گیا ٹیسٹ مثبت پایا گیا تھا۔ ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ حفاظت، فٹنس اور قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے میں ایئر لائن کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ 4 اگست 2026 کو ایئر انڈیا کی پرواز ’اے آئی-2379‘  فکیٹ سے دہلی آرہی تھی۔ ایئربس ’اے320این ای او‘ میں 137 مسافر سوار تھے، جن میں 3 بچے بھی شامل تھے۔ طیارے میں 6 کیبن کریو کے ارکان اور 2 پائلٹ بھی موجود تھے۔ پرواز تقریباً 36 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی، تبھی طیارے کے تینوں ہائیڈرولک سسٹم چند ہی سیکنڈ میں ایک کے بعد ایک فیل ہو گئے۔ اس کے بعد آٹو پائلٹ بند ہو گیا اور تقریباً 2 سیکنڈ تک اسٹال وارننگ سنائی دی۔Air India takes action after pilot's positive drug test | Air India has terminated the employment of a pilot who tested positive for drugs. The pilot was in command of a Phuket to Delhi flight when the incident occurred. The airline said the termination was effective immediately… pic.twitter.com/kBYv0JjYTI— Economic Times (@EconomicTimes) September 4, 2026طیارہ پہلے تقریباً 372 فٹ اوپر گیا اور پھر تقریباً 292 فٹ نیچے آگیا۔ اس وقت سیٹ بیلٹ کا سائن بند تھا۔ اچانک ہونے والی اس تبدیلی کی وجہ سے 24 افراد زخمی ہو گئے۔ ان میں 20 مسافر اور 4 کیبن کریو کے ارکان شامل تھے۔ 20 افراد کو ابتدائی علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی، جبکہ 4 افراد کو شدید زخم کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ آغاز میں اس حادثے کو خراب موسم اور ٹربولنس سے جوڑا گیا تھا، لیکن طیارے میں لوگوں کو لگنے والی چوٹوں اور ہونے والے نقصانات کے مدنظر بطور حادثہ معاملے کی جانچ کی گئی۔ ’اے اے آئی بی‘ نے اب اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں طیارے کے ہائیڈرولک سسٹم فیل ہونے اور پائلٹ کی ڈرگ ٹیسٹ رپورٹ سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔دہلی میں طیارے کی لینڈنگ کے بعد دونوں پائلٹوں کا طبی معائنہ کیا گیا۔ شراب کی جانچ سے متعلق ’بریتھ اینالائزر ٹیسٹ‘ میں دونوں پائلٹوں کا نتیجہ نارمل آیا۔ لیکن ’سائیکو ایکٹیو‘ مادّے کی جانچ میں پائلٹ ان کمانڈ کا سیمپل نان نیگیٹو آیا، وہیں کو پائلٹ کا سیمپل نیگیٹو تھا۔ خون کے نمونوں کی تصدیقی جانچ کرائی گئی۔ اس میں بھی پائلٹ ان کمانڈ کا نتیجہ نان نیگیٹو آیا، جبکہ کو پائلٹ کا ٹیسٹ نیگیٹو رہا۔ پائلٹ ان کمانڈ کی عمر 34 سال ہے۔ ’اے اے آئی بی‘ نے رپورٹ میں اس نتیجے کو سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے اور ’ڈی جی سی اے‘ سے ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ ’اے اے آئی بی‘ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایئر انڈیا نے پائلٹ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ایئر لائن نے کہا ہے کہ حفاظتی قوانین، فٹنس اور ضابطہ جاتی ضروریات کی خلاف ورزی کے معاملے میں اس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اسی کے تحت پائلٹ ان کمانڈ کی ملازمت فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ایئر انڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس معاملے کے بعد ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے اپنے پائلٹوں کے ڈرگ ٹیسٹ بھی شروع کر دیے ہیں۔ 17 اگست تک تقریباً 350 پائلٹوں کی جانچ کی جا چکی تھی۔ ان میں سے 2 پائلٹوں کے ابتدائی ٹیسٹ نان نیگیٹو آئے ہیں۔ حالانکہ ان معاملات میں تصدیقی ٹیسٹ ہونا ابھی باقی ہے۔ فی الحال قوانین کے مطابق ایئر لائنز کو اپنے 10 فیصد پائلٹوں کی رینڈم ڈرگ جانچ کرنی ہوتی ہے۔ حکومت اب تمام پائلٹوں کی سالانہ رینڈم ڈرگ ٹیسٹنگ پر بھی غور کر رہی ہے۔ایئر انڈیا کے 2 مزید پائلٹ ڈرگ ٹیسٹ میں فیل، فلائٹ روسٹر سے ہٹایا گیایہاں ایک بات واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ ’اے اے آئی بی‘ نے ابھی تک یہ نہیں کہا ہے کہ پائلٹ کے ڈرگ ٹیسٹ کا نتیجہ طیارے میں پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ سے تھا۔ طیارے کے تینوں ہائیڈرولک سسٹم ایک ساتھ کیوں فیل ہوئے، آٹو پائلٹ کیوں بند ہوا اور طیارے کے اچانک اوپر نیچے ہونے کی مکمل وجہ کیا تھی، ان تمام پہلوؤں کی جانچ ابھی جاری ہے۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ ’اے اے آئی بی‘ کی رپورٹ میں پائلٹ ان کمانڈ کا ڈرگ ٹیسٹ نان نیگیٹو آنے کی بات سامنے آئی ہے اور رپورٹ کے بعد ایئر انڈیا نے پائلٹ ان کمانڈ کی ملازمت فوری طور پر ختم کر دی ہے۔