اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد

Wait 5 sec.

آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی لگادی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق اس قانون کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں روایتی مسلم طرز کے سر ڈھانپنے والے لباس، جن میں حجاب اور برقع شامل ہیں، پہننے پر پابندی ہو گی۔نئے قانون کے تحت اگر اساتذہ کسی طالبہ کو حجاب پہنے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے طالبہ اور اس کے قانونی سرپرستوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت کرنا ہو گی۔خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بچوں کی بہبود سے متعلق خدمات کو مطلع کرنا ہو گا، جبکہ آخری اقدام کے طور پر سرپرستوں 800 یورو (685 پاؤنڈ) تک جرمانہ عائدکیا جا سکتا ہے۔قدامت پسند آسٹرین پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر کا کہنا ہے کہ حجاب جبر کی علامت اور بچپن ہی سے بچیوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔بھارتی ریاست کا بڑا فیصلہ، حجاب پر سے پابندی ختم کر دیناقدین کے مطابق نیا قانون ملک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہا ہے جو ممکنہ طور پر آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔