میساچوسٹس : امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے ’بنڈی بوجیو ایبولا وائرس‘ کے خلاف تیار کی گئی تجرباتی ویکسین کی پہلی انسانی آزمائش (ہیومن کلینیکل ٹرائل) شروع کردیے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بنڈی بوجیو ایبولا وائرس کے لیے دنیا کی پہلی تجرباتی ایم آر این اے ویکسین کا کلینیکل ٹرائل کینیڈا میں شروع ہوگیا جس میں 80 رضاکاروں کو شامل کیا جائے گا۔کمپنی کے مطابق کینیڈا کے محکمہ صحت نے ابتدائی مرحلے کے اس کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی ہے، جبکہ پہلے رضاکاروں کو ایم آر این اے 1469 نامی ویکسین کی خوراک بھی دی جا چکی ہے۔موڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین اسی ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جسے کمپنی نے اپنی کوویڈ 19 ویکسین میں بھی استعمال کیا تھا۔یہ ابتدائی مرحلے کا ٹرائل کینیڈا کے تین مختلف مراکز میں کیا جائے گا، جس میں تقریباً 80 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ ویکسین کی حفاظت اور جسم میں مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاسکے۔یہ منصوبہ سی ای پی آئی کے تعاون سے جاری ہے، جس نے ویکسین کی ابتدائی آزمائش اور تیاری کے لیے 5 کروڑ ڈالر تک مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کے مطابق بنڈی بوجیو ایبولا وائرس کی قسم کے خلاف اس وقت دنیا میں کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، جبکہ اس وائرس سے اب تک 1 ہزار 650 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست تک جمہوریہ کانگو میں جاری وبا کے دوران 3 ہزار 748 مصدقہ کیسز اور 1ہزار 657 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جس کے باعث یہ دنیا کی تاریخ میں ایبولا کی دوسری بڑی وبا بن چکی ہے۔سی ای پی آئی کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ہیچیٹ کے مطابق موجودہ وبا میں کیسز کی رفتار 2014 سے 2016 کے مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے مقابلے میں بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔عالمی ادارۂ صحت اور افریقہ سی ڈی سی پہلے ہی اس وبا کو صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے چکے ہیں۔موڈرنا نے کہا ہے کہ اگر یہ ویکسین کامیابی سے تمام مراحل مکمل کرکے منظوری حاصل کر لیتی ہے تو کمپنی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے کم از کم 5 لاکھ خوراکیں رعایتی قیمت پر فراہم کرے گی۔