یروشلم(6 اگست 2026): اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے اور اسرائیل اس وقت تک غزہ میں اپنی موجودہ فوجی پوزیشنوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس مکمل طور پر اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وجود پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سلامتی اور اپنے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم پر قائم ہیں، اور ضرورت پڑی تو اسرائیل تنہا بھی کارروائی کرے گا۔ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی معاہدے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل بہرحال ایران پر حملہ کرے گا، چاہے دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔