موہن بھاگوت کا جنریشن زیڈ کے سامنے اعتراف!

Wait 5 sec.

موہن بھاگوت نے دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرے بات چیت کی ایک شکل ہے۔ جمہوریت میں احتجاج کرنا اتفاق رائے پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جنریشن زیڈ کو احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔احتجاج کرنا بھی جمہوریت میں اتفاق رائے کی ایک شکل ہے۔انہو ں نے کہا کہ اگر آوازیں نہ سنی گئیں تو ہم احتجاج کا سہارا لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، " جنریشن زیڈ کی شکایات درست تھیں۔ ہندوستانی تعلیم میں بہت کچھ ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم جنریشن زیڈ کے زمانے میں تھے، اور جو کچھ ہمارے بزرگ کہتے تھے،  ہم نےاسے قبول کیا۔ آج ہمیں جواب اور محبت کی ضرورت ہے۔‘‘بھاگوت نے کہا، " جنریشن زیڈ کا احتجاج نظام کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے۔ غلطیاں اس لیے ہوتی ہیں کہ جو پہلے ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ جو کمی تھی اسے درست کیا جائے گا۔ وہ ہمارے لوگ ہیں، اگلی نسل، اس لیے وہ ملک دشمن نہیں ہیں۔ جنریشن زیڈ ، نئی نسل، ہم سے زیادہ ایماندار ہے۔ یہ حب الوطنی کی نسل ہے۔"نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق بھاگوت نے کہا، "ہمیں اس بات کی جڑ تک پہنچنے کی ضرورت ہے کہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن حملے کیوں ہوئے، اور یہ کیسے ہوئے۔ نہ تو آپ کو اور نہ ہی مجھے اس کے بارے میں کوئی معلومات ہے۔ میں نے خبروں میں پڑھا ہے کہ کچھ ماڈیولز میں دراندازی کی گئی ہے۔ اگر مجھ سے جنریشن زیڈ پر اندھا اعتماد کرنے کو کہا گیا تو میں اور کئی تجاویز دوں گا جس میں ہندوستانی اسکولوں میں تعلیم کو تجارتی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘