نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کے بعد امتحانی اصلاحات کے لیے قائم نندن نیلیکنی کی سربراہی والی ہائی پاورڈ ٹاسک فورس کو حکومت کی ’ڈیمیج کنٹرول مشق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت پہلے سے موجود سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 2024 میں نیٹ-یو جی پیپر لیک کے بعد حکومت نے سابق اسرو چیئرمین کے رادھاکرشنن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔ ان کے مطابق، 2026 میں ایک بار پھر نیٹ-یو جی پیپر لیک کے بعد حکومت نے انفوسس کے شریک بانی نندن نیلیکنی کی سربراہی میں نئی ہائی پاورڈ ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔انہوں نے ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے سنجے موریہ کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیلیکنی ٹاسک فورس کو دیے گئے 9 بنیادی نکات میں سے 7 پر رادھاکرشنن کمیٹی پہلے ہی مکمل طور پر کام کر چکی تھی، جبکہ باقی 2 نکات پر بھی جزوی طور پر غور کیا جا چکا تھا۔جے رام رمیش نے کہا کہ اس سے قبل بھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ حکومت رادھاکرشنن کمیٹی کی 101 سفارشات میں سے 27 پر اب تک عمل درآمد نہیں کر سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 اور 2026 کے پیپر لیک کے درمیان تقریباً 2 سال تک نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں مستقل ڈائریکٹر جنرل تک تعینات نہیں کیا گیا، جو حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ رادھاکرشنن کمیٹی کی رپورٹ پر عمل درآمد کے معاملے میں حکومت نے نہ سیاسی عزم دکھایا اور نہ ہی مطلوبہ سنجیدگی۔ ان کے مطابق، نیلیکنی کی سربراہی میں قائم نئی ٹاسک فورس دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ کو نقصان سے بچانے کی ایک کوشش ہے، جبکہ ان کی ساکھ کو ان کے اپنے حلقوں میں بھی جھٹکا لگا ہے۔ہندوستان ٹائمز کے تجزیہ کے مطابق، نیلیکنی ٹاسک فورس کے بیشتر اختیارات اور ذمہ داریاں رادھاکرشنن کمیٹی کی سفارشات سے کافی حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔ تاہم نئی ٹاسک فورس کو پورے امتحانی نظام کا جائزہ لینے اور این ٹی اے کے قانونی و انتظامی ڈھانچے کا بھی جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے، جو سابقہ کمیٹی کے دائرۂ کار میں شامل نہیں تھا۔उस साल 2024 में NEET-UG पेपर लीक के बाद मोदी सरकार ने परीक्षा प्रणाली में सुधार के सुझाव देने के लिए के. राधाकृष्णन की अध्यक्षता में एक हाई पावर्ड टास्क फोर्स का गठन किया था।इस साल 2026 में NEET-UG पेपर लीक के बाद मोदी सरकार ने परीक्षा सुधार पर ध्यान केंद्रित करने के लिए नंदन…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) August 6, 2026مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ تیزی سے بدلتے سائبر خطرات، ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور امتحانی نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنانے کی ضرورت کے پیش نظر نئی ٹاسک فورس تشکیل دینا ضروری تھا۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین جیسی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ، محفوظ اور قابل اعتماد امتحانی نظام تیار کرنا ہے۔