نئی دہلی: کانگریس نے جمعرات کو واضح کیا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں 8 اگست کو پریاگ راج میں مجوزہ 'چھاتروں کی گونج' پروگرام ہر حال میں طے شدہ مقام پر ہی منعقد ہوگا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں، اس کے باوجود اتر پردیش حکومت اور پریاگ راج انتظامیہ پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم، امیٹھی سے رکنِ پارلیمنٹ کشوری لال شرما، سہارنپور سے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود اور بارہ بنکی سے رکنِ پارلیمنٹ تنوج پونیا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر سخت تنقید کی۔راجندر پال گوتم نے کہا کہ راجستھان کے کوٹا اور اتراکھنڈ کے دہرادون میں کامیاب پروگراموں کے بعد اب پریاگ راج میں ’چھاتروں کی گونج‘ کا انعقاد ہونا ہے، لیکن اتر پردیش حکومت اس پروگرام سے خوفزدہ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ انتظامیہ پروگرام کے مقام سے متعلق اجازت منسوخ کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور مختلف طریقوں سے منتظمین کو ڈرانے اور پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں پرامن اجتماع اور عوامی مکالمہ ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ پارٹی تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے ضروری اجازتیں حاصل کر رہی ہے، اس کے باوجود حکومت غیر آئینی طریقوں سے پروگرام کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران کانگریس نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی اپیل کے بعد 'چھاتروں کی گونج' پورے ملک میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق اسی وجہ سے بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس مہم سے پریشان ہیں اور اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کانگریس رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور پریاگ راج انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ جمہوری اقدار کا احترام کریں اور پروگرام کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پروگرام کے لیے لاکھوں طلبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں اور نوجوان بڑی بے چینی سے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ وہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور ان کی آواز بلند کرنے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ادھر پریس کانفرنس سے قبل راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ فیس میں اضافے اور نشستوں میں کمی کے خلاف اپنے مستقبل کی لڑائی لڑ رہے ہیں، لیکن انتظامیہ ان کے مطالبات سننے کے بجائے ان پر مقدمات درج کر رہی ہے۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی پالیسی نوجوانوں کی آواز دبانے پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق سوال پوچھنے والوں پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں، احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جاتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں پر پیلیٹ گن تک استعمال کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے طلبہ کے مسائل سننے کے لیے پریاگ راج جانے کا فیصلہ کیا تو اسی وقت سے انتظامیہ ان کے پروگرام کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت طلبہ کی آواز سے خوفزدہ ہے، لیکن وہ کسی بھی صورت طلبہ کے حقوق کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہے جتنی کوشش کر لے، انہیں طلبہ کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔