ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ: ویسٹ انڈیز پر پاکستان کی فتح سے پوائنٹس ٹیبل میں مچی ہلچل

Wait 5 sec.

پاکستانی ٹیم نے بالآخر غیر ملکی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل شکستوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔ پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر پاکستان نے 2 میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ اس سے قبل پاکستان بیرون ملک مسلسل 8 ٹیسٹ میچ ہار چکا تھا۔ بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم نے آخرکار شکستوں کا یہ سلسلہ توڑ دیا۔How the #WTC27 is shaping up after Pakistan's victory over the West Indies More https://t.co/gW4kJw6IvO pic.twitter.com/XjHwfuuTGd— ICC (@ICC) August 6, 2026اس جیت کا سب سے بڑا فائدہ پاکستانی ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ2025-27کے پوائنٹس ٹیبل میں ملا، جہاں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آٹھویں مقام پر قبضہ کر لیا۔ یہ جولائی 2023 کے بعد پاکستان کی بیرون ملک پہلی ٹیسٹ فتح ہے۔ اس کامیابی سے پہلے پاکستان پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر تھا۔ پورٹ آف اسپین ٹیسٹ جیتتے ہی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو نویں نمبر پر دھکیل دیا۔پاکستان کا پوائنٹس پرسنٹیج 22.22 ہو گیا ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز کے 20.83 فیصد پوائنٹس ہیں۔ اگرچہ پاکستان اب بھی سرفہرست ٹیموں سے کافی پیچھے ہے، لیکن یہ فتح اس کی ڈبلیو ٹی سی مہم کو زندہ رکھنے کے لیے نہایت اہم مانی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا 87.50 فیصد پوائنٹس کے ساتھ مضبوطی سے پہلے نمبر پر قابض ہے۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ (75.00 پی سی ٹی) دوسرے اور نیوزی لینڈ (72.22 پی سی ٹی) تیسرے مقام پر ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش 58.33 فیصد پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے نمبر پر موجود ہے، جبکہ شبھمن گل کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم 48.15 فیصد پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ سری لنکا 41.67 فیصد پوائنٹس کے ساتھ چھٹے اور انگلینڈ 24.36 فیصد پوائنٹس کے ساتھ ساتویں مقام پر ہے۔ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ بحث محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر ہوئی۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 5 وکٹیں لینے والے تجربہ کار تیز گیند باز کو باہر بٹھا کر پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ایک اضافی اسپنر کھلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ میچ ختم ہونے کے بعد بابر اعظم نے بتایا کہ یہ حکمت عملی پچ کو دیکھ کر تیار کی گئی تھی۔ بابر نے کہا کہ ’’پچ بالکل پاکستان جیسی لگ رہی تھی۔ اسی لیے ہم نے ایک اضافی اسپنر کھلایا۔ اس کے لیے ہمیں ایک سینئر کھلاڑی (محمد عباس) کو باہر رکھنا پڑا، لیکن ہماری منصوبہ بندی مکمل طور پر کامیاب رہی۔‘‘قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے اسپنرز ساجد خان اور علی عثمان نے 4-4 وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کو 117 رنز پر سمیٹ دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے 75 رنز کا ہدف صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ پہلی اننگز میں شاندار ناقابل شکست سنچری بنانے والے عبداللہ شفیق کو ’پلیئر آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شفیق اصل اسکواڈ کا حصہ بھی نہیں تھے۔ انہیں آخری وقت میں ایک زخمی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔