تہران(6 اگست 2026): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا یہ سمجھتا تھا کہ جنگ اور پابندیوں کے ذریعے شام کی طرح ایران میں بھی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، مگر ایرانی عوام کے حوصلے اور عزم نے دشمن کے تمام ارادے ناکام بنا دیے۔ایک انٹرویو کے دوران ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن نے یہ سازش کی تھی کہ صرف اڑتالیس گھنٹے میں ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود ایران آج ایک طاقتور اور باوقار ملک کہلاتا ہے اور ملک کے نئے سپریم لیڈر نے ایران کو متحد اور مضبوط بنایا ہوا ہے۔صدر پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ انہیں امریکا اور اسرائیل کی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیوں ایرانی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا ہر اس علامت کے خلاف ہے جو ایرانی عوام کو آزاد اور تخلیق کار بناتی ہے، اور دشمن نہیں چاہتا کہ کوئی بھی قابل شخص ایران میں قائدانہ کردار ادا کرے۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایران کے زیادہ تر شہید کمانڈر اور سائنس دان انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے اور ان کا اپنا ذاتی گھر تک نہ تھا، جو ان کے بے لوث جذبے کی واضح علامت ہے۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود قومی اتحاد نے ایران کو ناقابل تسخیر بنایا ہوا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطے بہت مشکل ہیں، مگر ان کی موجودگی ایرانی عوام کے لیے غیرمعمولی طاقت کا سبب ہے۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر نے اہم معاملات پر اتفاق رائے سے متعلق ماہرین کی رائے قبول کر لی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ اگر تین چوتھائی ووٹ حق میں آئیں تو معاملے کو قبول کر لیا جائے گا۔