راہل گاندھی نے کی جھارکھنڈ کے طلبہ تحریک کی حمایت، کہا- ’حکومت کسی کی بھی ہو، طلبہ اور نوجوانوں کی آواز سننی چاہیے‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، اسے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز ضرور سننی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے، یہ نہ صرف بے حد مہنگا ہے بلکہ طلبہ پر دباؤ ڈالنے والا نظام بھی بن گیا ہے، جس میں بنیادی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔راہل گاندھی نے یہ بات انسٹاگرام پر طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کے دوران کہی۔ ایک طالب علم نے ان سے جھارکھنڈ میں جاری احتجاج اور طلبہ کے مطالبات کے بارے میں سوال کیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والی طلبہ تحریکیں دراصل موجودہ تعلیمی نظام کے خلاف عوامی ردعمل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’میں نے کوٹا میں بھی یہی بات کہی، دہرادون میں بھی یہی کہا اور پریاگ راج میں بھی یہی کہوں گا کہ ہمارا تعلیمی نظام ناکام ہو چکا ہے۔ ہر حکومت کو طلبہ کی بات سننی چاہیے اور اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ چاہے وہ کانگریس کی حکومت ہو، مرکزی حکومت ہو یا جھارکھنڈ کی حکومت، طلبہ کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘हमारा एजुकेशन सिस्टम बर्बाद है। हर सरकार को स्टूडेंट्स की बात सुननी चाहिए और एजुकेशन सिस्टम को बदलने के लिए एक्शन लेना चाहिए। चाहे वो कांग्रेस की सरकार हो, केंद्र सरकार हो या झारखंड की सरकार हो। : Gen-Z के सवाल पर नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi pic.twitter.com/wXkuFBgy5J— Congress (@INCIndia) August 6, 2026اس سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی جھارکھنڈ کے طلبہ کی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کانگریس پارٹی ہر جگہ طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے، خواہ معاملہ جھارکھنڈ کا ہو، پنجاب کا یا دہلی کا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی سمیت پوری کانگریس طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی، چاہے متعلقہ ریاست میں کانگریس کی حکومت ہو، اتحادی جماعت کی حکومت ہو یا اپوزیشن برسرِ اقتدار ہو۔خیال رہے کہ جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کا احتجاج 25 جولائی سے رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں جاری ہے۔ ہزاروں امیدوار دھرنے میں شریک ہیں جبکہ متعدد طلبہ بھوک ہڑتال بھی کر رہے ہیں۔ اس تحریک کا آغاز 14ویں جے پی ایس سی مشترکہ سول سروس ابتدائی امتحان میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ہوا تھا۔ View this post on Instagram بعد ازاں احتجاج کا دائرہ وسیع ہو کر جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) سمیت دیگر سرکاری بھرتی امتحانات میں دھاندلی اور بے قاعدگیوں تک پھیل گیا۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے تاکہ امیدواروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ کانگریس کی جانب سے راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے بیانات کے بعد جھارکھنڈ کی طلبہ تحریک کو قومی سطح پر مزید سیاسی توجہ حاصل ہوئی ہے۔