بھارتی حکومت نے اکتوبر 2026 میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے بڑے احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر آف لائن میسجنگ ایپ ‘بٹ چیٹ’ کو ایپل اور گوگل پلے اسٹورز سے باضابطہ طور پر ہٹا دیا ہے۔جس کی اطلاع ایپ کے خالق اور ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے سجانی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دی تھی۔یہ ایپ زیادہ تر بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران نوجوانوں میں مقبول رہی ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بٹ چیٹ ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے جس کے لیے انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ایپ بلیو ٹوتھ کے ذریعے قریبی ڈیوائسز کو آپس میں جوڑ کر پیغامات آگے منتقل کرتی ہے۔ جب جولائی میں نئی دہلی میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام جنتر منتر کے مقام پر احتجاج کے دوران موبائل انٹرنیٹ معطل کیا گیا تو مظاہرین نے آپس میں رابطے اور لاجسٹکس کو برقرار رکھنے کے لیے اس ایپ کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف جولائی میں پوری دنیا میں اس ایپ کے 80 فیصد ڈاؤن لوڈ بھارت میں ہوئے۔ اس بار بھی بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کیلیے ہونے والے مظاہروں میں جنتر منتر کے اطراف انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، جس کے بعد یہ ایپ پیغام رسانی کا اہم ذریعہ بن گئی۔رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت آئی ٹی نے اس ایپ پر پابندی عائد کی ہے، بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کا مؤقف ہے کہ اس ایپ میں فون نمبر یا کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ مکمل انکرپٹڈ ہے۔جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پیغامات کو ٹریس کرنا یا ان کی نگرانی کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اسے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر اسٹورز سے ہٹانے اور بلاک کرنے کا حکم جاری کردیا۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس ایپ پر غیر قانونی مواد موجود ہے، تاہم اس حووالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔بانی کاکروچ جنتا پارٹی ابھیجیت دیپکے ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی سے قبل گرفتار