ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کا ایران تنازعہ اور امریکی فوجی کارروائیوں پر پنٹاگن کی جوابدہی کا مطالبہ

Wait 5 sec.

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رکن پارلیمنٹ ایڈم اسمتھ نے ایران تنازعہ، لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی کارروائیوں اور پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے جانے والے دفاعی ٹھیکوں کے معاملے پر پنٹاگن کی سخت نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رکن اسمتھ نے 120ویں کانگریس کے لیے اپنی پارٹی کی نگرانی سے متعلق ترجیحات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئندہ کانگریس میں محکمہ دفاع اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جوابدہی یقینی بنانا میری ترجیح ہوگی۔‘‘The top Democrat on the House Armed Services Committee called for investigations into the war with Iran and U.S. military strikes in the Caribbean and Latin American. https://t.co/tWrlnjh04F— The Wall Street Journal (@WSJ) November 4, 2026ایڈم اسمتھ نے پنٹاگن کے سینئر افسران کی عوامی گواہی کے مواقع بڑھانے اور کمیٹی میں نگرانی و تحقیقات کے لیے مختص ذیلی کمیٹی کو دوبارہ بحال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے انہوں نے اسے ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس دعوے کی حمایت میں کوئی تفصیلی قانونی تجزیہ پیش نہیں کیا۔ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ’’حکومت کی جانب سے پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے جانے والے ٹھیکوں اور مالی امداد کی بھی جانچ ہونی چاہیے، تاکہ سرکاری رقم کے استعمال میں ممکنہ بے ضابطگیوں، دھوکہ دہی اور غلط استعمال کا پتہ لگایا جا سکے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بحیرہ کیریبین کے علاقے اور لاطینی امریکہ میں مبینہ طور پر غیر مجاز فوجی حملوں، امریکی شہروں میں فوج کی تعیناتی اور مسلح افواج کو سیاسی رنگ دینے جیسے معاملات بھی نگرانی کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔‘‘دفاعی بجٹ پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے اسمتھ نے کہا کہ ’’قومی سلامتی کے لیے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے دفاعی بجٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے گھریلو پروگراموں میں بڑی کٹوتی کیے بغیر دفاعی وسائل کے بہتر استعمال کی وکالت کی۔ ان کے مطابق نئے ہتھیاروں اور فوجی نظاموں میں سرمایہ کاری کرتے وقت حالیہ تنازعات سے حاصل ہونے والے سبق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ایسی صلاحیتوں کی تیاری پر زور دیا جانا چاہیے جو کم لاگت میں مؤثر ثابت ہوں۔ انہوں نے فوجی خریداری کے طریقۂ کار میں اصلاحات کے لیے دونوں جماعتوں کی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی بھی حمایت کی۔ایڈم اسمتھ نے امریکی فوجیوں، محکمہ دفاع کے سویلین ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے مفادات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سہولیات اور معیار زندگی کو یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ فوج میں باصلاحیت افراد کی بھرتی اور انہیں برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں فوجی اور سویلین عہدوں پر تقرریوں کے دوران قابلیت کے بجائے سیاسی وفاداری کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ حالانکہ اسمتھ نے اپنے اعلان میں کسی مخصوص دفاعی ٹھیکے، کمپنی یا ہتھیاروں کے پروگرام کا نام نہیں لیا۔ نہ ہی انہوں نے کسی باضابطہ تحقیقات کے آغاز یا سماعت کا شیڈول جاری کیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی قومی دفاعی پالیسی، فوجی کارروائیوں، پینٹاگون کے کام کاج، دفاعی خریداری اور فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔ اسمتھ کی مجوزہ ترجیحات سے اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ کانگریس میں ایران تنازعہ اور امریکی دفاعی اخراجات کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔