نئی دہلی: کانگریس نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کابینہ یا متعلقہ محکموں سے مشورہ کیے بغیر قیمتی سرکاری زمینیں اور عمارتیں نجی ہاتھوں میں دے رہے ہیں۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ فیصلوں میں قواعد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور زمینوں کے لیے بازار سے کم نرخ مقرر کیے جا رہے ہیں۔کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتراکھنڈ کی انچارج کماری سیلجا نے نئی دہلی میں پارٹی دفتر پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے 40 مقامات پر سرکاری زمین، تاریخی املاک اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص اراضی نجی فریقوں کو دینے کی کارروائی جاری ہے۔ ان کے مطابق ٹینڈر کے طریقۂ کار اور جائیدادوں کی قیمت کے تعین میں شفافیت نہیں برتی جا رہی۔سیلجا نے بتایا کہ 20 دسمبر 2022 کی کابینہ میٹنگ میں ریاستی محکموں کی زمینوں سے متعلق حتمی اختیار وزیر اعلیٰ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسی دوران سرکاری املاک کی فروخت اور اثاثوں سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے اتراکھنڈ انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ بورڈ (یو آئی آئی ڈی بی) قائم کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے کام کاج کے قواعد کے تحت ہر محکمہ اپنے وزیر اور پوری کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری میں کام کرتا ہے؛ زمینوں اور ورثے کی عمارتوں کی فروخت کا فیصلہ کسی ایک فرد کے سپرد کرنا اس اصول کے منافی ہے۔کانگریس رہنما نے یو آئی آئی ڈی بی ایکٹ کی دفعہ 28 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی سرکاری اثاثے کو نجی استعمال کے لیے دینے یا اس سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے ریاستی حکومت، متعلقہ محکمہ اور بورڈ کی منظوری ضروری ہے۔ ان کے الزام کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ان اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ سیلجا نے یہ بھی کہا کہ دھامی بورڈ کے سربراہ ہیں، جبکہ سرکاری زمین بورڈ کو منتقل کرنے اور پھر اسے نجی فریق کو دینے کے فیصلوں میں بھی ان کا کردار ہےانہوں نے مسوری کی جارج ایورسٹ اسٹیٹ کو اس سلسلے کی پہلی مثال قرار دیا۔ سیلجا کے مطابق دسمبر 2022 میں 142 ایکڑ زمین 15 برس کے لیے ایک کروڑ روپے سالانہ کرائے پر آچاریہ بال کرشن سے وابستہ کمپنی کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے دستخطوں کے ذریعے مختلف محکموں کی 1,080 ایکڑ اراضی بورڈ کو منتقل کی گئی ہے اور اب پٹوا ڈانگر کی 14 ایکڑ زمین اور الکنندا ہوٹل سمیت مختلف املاک کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں۔سیلجا نے رشی کیش میں آئی ڈی پی ایل کی 633 ایکڑ زمین اور مختلف مقامات پر انگریزوں کے دور کے 25 انسپکشن بنگلوں کی منتقلی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق نینی تال میں ہوٹل کے لیے سیوریج پلانٹ منتقل کیا گیا، جبکہ رام گڑھ میں جنگلاتی زمین دینے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پٹوا ڈانگر کی زمین پانچ روپے فی مربع میٹر سالانہ کے حساب سے دی جا رہی ہے اور اسے ایک بڑے صنعتی گروپ کے حوالے کرنے کی تیاری ہے۔ان کے بقول، وکاس نگر میں ڈاک پتھر کی 190 ایکڑ زمین مقامی لوگوں نے جواہر لعل نہرو کی درخواست پر ترقیاتی کاموں کے لیے دی تھی۔ سیلجا نے الزام لگایا کہ اسے اصل مالکان کو واپس کرنے کے بجائے دوسرے فریقوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار زمین نجی ہاتھوں میں چلی گئی تو حکومت کے لیے اسے واپس لینا مشکل ہوگا۔ کانگریس ان معاملات پر گورنر کو عرضداشت دے گی اور کارروائی نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔