امریکی انتخابات کے نتائج سے ارب پتی ایلون مسک ناخوش

Wait 5 sec.

(4 نومبر 2026): امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے نتائج سے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک ناخوش ہیں۔نتائج پر گھنٹوں کی خاموشی کے بعد ایلون مسک نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ لگتا ہے میرے انتخابات میں مداخلت کرنے والے خلائی لیزر اس بار کام نہیں آئے۔ایلون مسک کا کردار نمایاں طور پر زیرِ بحث ہے۔ اوپن سیکرٹس کے وفاقی انتخابی ریکارڈز کے مطابق انہوں نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کیلیے چار سو پچپن ملین ڈالرز خرچ کیے۔تاریخ کے مہنگے ترین انتخاباتامریکی مڈٹرم انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ثابت ہوئے۔ امریکی سیاسی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکرٹس کی رپورٹ کے مطابق حالیہ وسط مدتی انتخابات امریکی تاریخ سے مہنگے ترین الیکشن بن گئے۔رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم پر اخراجات 11 ارب 93کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جس میں ڈیموکریٹس 5 ارب 52کروڑ ڈالر اور ری پبلکنز 5 ارب 12کروڑ ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔امریکی کانگریس، سینیٹ اور گورنروں کے انتخابی نتائج پر عالمی اور مقامی سٹے بازوں نے کروڑوں ڈالر داؤ پر لگا دیے۔امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے بتایا کہ ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آتے ہی مختلف سٹے بازی ویب سائٹس پر 1 ارب 40 کروڑ ڈالرز سے زائد کا کاروبار ہو چکا ہے۔ جبکہ ‘فاکس نیوز’ کے مطابق سٹے بازی کا یہ حجم کم از کم 1 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔صرف معروف بیٹنگ ویب سائٹ ‘کیلشی’ پر ہی 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگایا جا چکا ہے، سٹے بازوں کے مطابق ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کا امکان 93 فیصد ہے، جبکہ ری پبلکنز کا امکان صرف 7 فیصد رہ گیا ہے۔سینیٹ کے مجموعی کنٹرول کے لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان 72 فیصد اور ری پبلکنز کا 28 فیصد ظاہر کیا جا رہا ہے۔