نیویارک : ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ‘سپر ایل نینو’ کی لہر صرف 10 ماہ کے مختصر عرصے میں دنیا بھر میں 9 لاکھ کے قریب اضافی ہلاکتوں کا باعث بن سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کو شدید گرمی کی ایک اور خطرناک لہر کا سامنا ہے، سپر ایل نینو کے باعث صرف 10 ماہ کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 9 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کردیا گیا۔یونیورسٹی آف شکاگو کی ‘کلائمیٹ امپیکٹ لیب’ کی ایک نئی اور تشویشناک رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال جون سے ستمبر کے دوران شدید گرمی کے باعث اندازاً 4 لاکھ 84 ہزار 500 اضافی اموات ہوچکی ہیں، جبکہ آئندہ چھ ماہ میں مزید 3 لاکھ 72 ہزار 900 اموات کا خدشہ ہے۔رپورٹ میں کہنا ہے کہ نائجیریا، بھارت اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک شدید خطرات سے دوچار ہیں، نائجیریا میں آئندہ چھ ماہ کے دوران 56 ہزار سے زائد اضافی اموات کا خدشہ ہے، جبکہ بھارت میں 55 ہزار اور انڈونیشیا میں تقریباً 29 ہزار اموات کی پیشگوئی کی گئی ہے۔صرف نائجیریا، بھارت اور چین مل کر کل ہلاکتوں کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کا سبب بنیں گے۔انڈونیشیا میں ایل نینو کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ سے نکلنے والے دھویں نے سانس کی بیماریوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے، جس سے پڑوسی ممالک سنگاپور اور ملائیشیا کی ایئر کوالٹی بھی انتہائی خراب ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ‘ایل نینو’ کا اثر انڈسٹریل دور کے مقابلے میں 36 فیصد سے زیادہ شدید ہو چکا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینے تاریخ کے گرم ترین مہینے ریکارڈ کیے گئے۔ماہرین کے مطابق سپر ایل نینو کے باعث بعض خطوں میں شدید خشک سالی، جنگلات میں آگ اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ عالمی درجہ حرارت بھی بڑھ سکتا ہے۔