برلن : جعلی نوٹوں کی بھرمار نے اب تک کئی شہریوں کو لاکھوں مالیت کا نقصان پہنچا دیا، گزشتہ 6 ماہ کے دوران 300سے زائد جعلی کرنسی نوٹ پکڑے گئے۔جرمنی میں جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش کا معاملہ پولیس حکام کیلیے تشویش کا باعث بن رہا ہے، رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملک میں تقریباً 300 جعلی نوٹ پکڑے جاچکے ہیں، جبکہ صرف گزشتہ سال 2025 میں جعلی کرنسی کے باعث جرمنی کو مجموعی طور پر تقریباً 40 لاکھ یورو کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔حالیہ کارروائیوں کے بعد گزشتہ سال کے مقابلے میں جعلی نوٹوں کی تعداد میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، تاہم جرمنی میں نقد رقم کے وسیع استعمال کی وجہ سے جعل سازوں کو اب بھی اپنے غیرقانونی کاروبار کے مواقع میسر ہیں۔جعلی کرنسی کی تیاری اور اس کی ترسیل میں انفرادی جعل سازوں کے علاوہ منظم جرائم پیشہ گروہ بھی ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ ڈارک ویب کے ذریعے بھی بڑی تعداد میں جعلی کرنسی نوٹ منگوائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں فلموں اور ڈراموں میں استعمال ہونے والے نقلی نوٹ بھی بعض اوقات حقیقی کرنسی کے طور پر مارکیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ جرمنی میں پیش آیا، جہاں ایک طالبہ کے والد نے اسکول کے ایک پروجیکٹ کے لیے آنن لائن آرڈر کے ذریعے جعلی کرنسی نوٹ منگوائے تھے۔پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد جب اسکول میں ان جعلی نوٹوں کی ضرورت باقی نہ رہی تو طالبہ کو وہ گھر لے جانے کی اجازت دے دی گئی۔ گھر واپسی کے دوران وہ ایک دکان پر رکی اور ان میں سے ایک نوٹ کے ذریعے کچھ خریداری کرلی، جس کے بعد پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔FOLLOW US ON ARY TUBEجرمنی کے مرکزی بینک کے مطابق زیادہ تر معاملات میں جعلی نوٹ کی شناخت کرنا مشکل نہیں ہوتا، بشرطیکہ شہری کرنسی نوٹ کو غور سے چیک کرنے کا طریقہ جانتے ہوں۔ جعل سازوں کی جانب سے سب سے زیادہ 50 یورو کا نوٹ نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ 20 یورو کا نوٹ دوسرے نمبر پر ہے۔ جعلی نوٹ کو پہچاننے کا طریقہمرکزی جرمن بینک نے جعلی کرنسی کی شناخت کے لیے شہریوں کو 3 آسان اصول اپنانے کی ہدایت کی ہے جس میں پہلے اسے چھوئیں، بغور دیکھ کر جائزہ لیں اور ترچھا کرکے جانچیں۔اس طریقے کے تحت سب سے پہلے نوٹ کو چھو کر اس کے کاغذ اور ابھری ہوئی چھپائی کو محسوس کیا جائے کیونکہ اصلی نوٹ کا کاغذ مخصوص اور قدرے سخت محسوس ہوتا ہے۔دوسرے مرحلے میں نوٹ کو روشنی کے سامنے کرکے اس کا واٹر مارک چیک کرنا چاہیے اور تیسرے مرحلے میں نوٹ کو مختلف زاویوں سے ترچھا کرکے دیکھیں تاکہ اس پر موجود حفاظتی نشانات اور خصوصی روشنیاں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دیں۔’’گورنر اسٹیٹ بینک بھی جعلی نوٹ نہ پہچان سکے تو عام آدمی کیسے کرے؟‘‘