ترواننت پورم کیرالہ حکومت مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافے اور بونس سمیت دیگر فلاحی فوائد مزید کارکنوں تک پہنچانے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے لیبر کوڈز کے تحت ریاستی قواعد کی تیاری سے متعلق سفارشات پر مبنی مسودہ رپورٹ بدھ کو وزیر محنت بندو کرشنا نے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن کو پیش کی۔یہ سفارشات ٹریڈ یونینوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کم از کم اجرت کے حساب کے لیے استعمال ہونے والی خاندانی اکائی میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ فی الحال اجرت کے تعین میں 3 افراد پر مشتمل خاندان کو بنیاد بنایا جاتا ہے، تاہم کمیٹی نے اسے بڑھا کر 5 افراد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس میں کارکن کے والدین کو بھی خاندان کا حصہ شمار کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس تبدیلی سے اجرت کے تعین کی بنیاد وسیع ہوگی اور مزدوروں کے لیے زیادہ کم از کم اجرت مقرر کرنے کی راہ کھل سکتی ہے۔ رپورٹ میں بونس اور دیگر فلاحی سہولتوں کے دائرے کو بھی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو لیبر قوانین کے تحت دستیاب فوائد مل سکیں۔ کمیٹی نے خطرناک اور پرخطر کاموں میں مصروف ملازمین کے لیے مفت طبی معائنے کا انتظام کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔خواتین کی حفاظت سے متعلق سفارشات میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والی خواتین کے لیے سخت حفاظتی انتظامات شامل ہیں۔ مجوزہ ریاستی قواعد میں ایسے اقدامات رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جن کے ذریعے خواتین کو رات کے اوقات میں کام کی اجازت دیتے ہوئے ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔کیرالہ کی کانگریس قیادت والی حکومت نے ریاستی وقف بورڈ کی از سر نو تشکیل کیان سفارشات کی تیاری کے لیے 22 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اجلاس میں لیبر کوڈز کے تحت ریاستی قواعد مرتب کرنے کے لیے قابلِ عمل تجاویز جمع کرنے اور اس عمل میں ٹریڈ یونین نمائندوں کو شامل کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ لیبر کمشنر کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا، جبکہ اس میں محکمہ قانون کے ایڈیشنل سیکریٹری، مختلف ٹریڈ یونینوں کے سات نمائندے اور محکمہ محنت کے افسران شامل تھے۔ کمیٹی نے دس روزہ مشاورت اور مختلف دفعات کے جائزے کے بعد رپورٹ مکمل کی۔کمیٹی نے لیبر کوڈز پر ریاستی حکومت اور ٹریڈ یونینوں کے تحفظات کا بھی جائزہ لیا۔ اس سے پہلے مجوزہ ریاستی ترامیم کا جائزہ جسٹس گوپال گوڑا کمیٹی نے لیا تھا، جس نے ضروری قانونی تبدیلیوں سے متعلق سفارشات پیش کی تھیں۔کیرالہ اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبہ والی قرارداد منظورتازہ رپورٹ میں تالہ بندی اور لی آف سے متعلق دفعات میں ترمیم کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد ایسے معاملات میں ریاستی حکومت کے مداخلت کے اختیارات بڑھانا ہے۔اب ریاستی حکومت سفارشات کا جائزہ لے گی، جس کے بعد لیبر کوڈز کے تحت قواعد مرتب کرنے کا عمل آگے بڑھے گا۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نئے قواعد کے نفاذ سے مزدوروں کو پہلے سے حاصل تحفظات اور حقوق کم نہیں ہونے چاہییں، اور ان کی اجرت، فلاح و بہبود اور جائے کار پر سلامتی کو مناسب تحفظ ملنا چاہیے۔