کنساس(4 نومبر 2026): امریکی ریاست کنساس میں 94 سال بعد ری پبلکن پارٹی کو شکست ہوئی ہے۔خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق منگل کے روز ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہملٹن نے کینساس کی سینیٹ نشست پر شاندار کامیابی حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار راجر مارشل کو شکست دی، جس کے ساتھ ہی وہ گزشتہ 94 سالوں میں اس ریاست سے سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ بن گئے ہیں۔ اس تاریخی کامیابی نے ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت مضبوط کرنے میں بھی اہم مدد فراہم کی ہے۔یہ نتیجہ ایک حیرت انگیز سیاسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایک ایسی ریاست میں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں 16 فیصد سے زیادہ برتری حاصل کی تھی اور شروع میں اس نشست پر ریپبلکنز کی یقینی کامیابی کی توقع کی جا رہی تھی۔انتخابات سے قبل سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت حاصل تھی، اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کے فرق کو ختم کرنا تھا۔ٹرمپ کو بڑا دھچکا: ڈیموکریٹس نے سینیٹ کا میدان مار لیا، اکثریت حاصل کرلی62 سالہ ایڈم ہملٹن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران معاشی آسانی اور دوطرفہ تعاون کے نعروں پر زور دیا۔ انہوں نے خود کو ایک "آزاد سوچ رکھنے والا ڈیموکریٹ” ظاہر کیا اور ریپبلکنز کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے انتہائی بائیں بازو کے الزامات کو سختی سے رد کیا۔اپنی فتح کے بعد تقریر کرتے ہوئے انہوں نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور ٹرمپ پالیسیوں جیسے کہ درآمدی ٹیکس اور فوڈ اسسٹنس میں کٹوتیوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں یہ مقابلہ انتہائی سخت ہو گیا تھا، جس کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے راجر مارشل کی حمایت میں کینساس کا دورہ بھی کیا۔دوسری جانب، راجر مارشل کو ستمبر میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ادائیگیاں نہ کرنے پر 700 سے زائد مریضوں کے خلاف مقدمات دائر کیے تھے۔