(5 نومبر 2026): ایرانی سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا اہم پیغام پہنچا دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے آج روس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ماسکو میں صدر پیوٹن سے اہم ملاقات کی، روسی انٹیلیجنس سربراہ اور صدر کے خارجہ پالیسی مشیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ملاقات میں خطے میں قیام امن کیلیے جاری سفارتی کوششوں سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔رہبر معظم کی خواہش تھی جلد ان کا پیغام روسی صدر تک پہنچاؤںپیوٹن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محسن رضائی نے بتایا کہ رہبر معظم کی خواہش تھی جلد ان کا پیغام روسی صدر تک پہنچاؤں، پیوٹن نے رہبر معظم کیلیے مخلصانہ نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ایران، سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان کا اجلاس خوش آئندہ قرارمحسن رضائی کے مطابق خطے کے اہم مسائل پر صدر پیوٹن کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے، جنگ کے بعد علاقائی سلامتی کے انتظامات پر بات چیت ہوئی، تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اجلاس کا بتایا، روسی صدر نے اجلاس کو خوش آئند قرار دیا۔ایران اور اس کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمتایرانی سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے مطابق پیوٹن نے ایران اور اس کی جوہری تنصیبات پر امریکی عسکری جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، روسی صدر نے کہا:یہ ایک ظالمانہ جنگ ہے اور اسے جلد بند ہونا چاہیے، جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کیلیے حاضر ہیں، ہم نے سفارتی محاذ پر اپنی سات شرائط امریکا تک پہنچائی ہیںان کا کہنا تھا کہ 7 شرائط پر جب تک عمل نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کھلے گی نہ مذاکرات ہوں گے۔