20 سالہ خاتون پائلٹ کی آخری ’مے ڈے کال‘ وائرل: طیارے کے المناک حادثے کی دل دہلا دینے والی اندرونی کہانی

Wait 5 sec.

فلوریڈا(5 نومبر 2026): یکم نومبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کے قریب پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے ہوائی حادثے کی تفصیلات اور آخری گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔اس حادثے میں ایک نجی لیرجیٹ سکسٹی طیارہ تباہ ہو گیا تھا، جس میں 20 سالہ کو پائلٹ نتھالیا فیلگیراس اور عملہ سوار تھا۔ یہ نجی طیارہ امریکی ریاست ٹیکساس سے بہاماس کی طرف محوِ پرواز تھا کہ فلوریڈا کے قریب شدید طوفان، شدید سرد موسم اور برفباری کی زد میں آ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق موسم کی اس اچانک خرابی نے طیارے کے نظام کو شدید متاثر کیا اور یہ المناک حادثہ پیش آ گیا۔حادثے سے چند لمحے قبل، نوجوان کو پائلٹ نتھالیا فیلگیراس نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو بتایا کہ طیارے پر برف جم رہی ہے اور اس میں شدید ہلچل محسوس ہو رہی ہے۔خراب موسم کے خطرات سے بچنے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے انہوں نے طیارے کو مزید بلندی پر لے جانے کی اجازت طلب کی، تاہم اس سے پہلے کہ صورتحال بہتری کی طرف جاتی، طیارہ اچانک بے قابو ہو گیا اور انتہائی خطرناک رفتار سے نیچے گرنے لگا۔طیارے کے بے قابو ہونے پر نتھالیا فیلگیراس نے فوری طور پر ’مے ڈے‘ کال جاری کی۔ کنٹرول ٹاور سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طیارہ پہلے 10,000 اور پھر 22,000 فٹ فی منٹ کی انتہائی خطرناک رفتار سے زمین کی طرف جا رہا ہے اور زمین سے ٹکرانے کا شدید خدشہ ہے۔ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ یہ تھے کہ باہر دیکھو، باہر دیکھو، ہمارے پاس وقت ختم ہو چکا ہے۔ ان الفاظ کے فوراً بعد ایک دل خراش چیخ سنائی دی اور ائیر ٹریفک کنٹرول کا طیارے کے ساتھ حتمی طور پر رابطہ منقطع ہو گیا۔