65 فیصد امریکی ووٹرز ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے کیوں ناخوش ہیں؟ بی بی سی کا بڑا انکشاف

Wait 5 sec.

واشنگٹن(4 اکتوبر 2026): بی بی سی کا کہنا ہے کہ تقریباً دو تہائی امریکی ووٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔بی بی سی کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکی ووٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 65 فیصد امریکی ووٹرز کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے معیشت کو مزید خراب کیا ہے، جبکہ صرف 28 فیصد امریکی ووٹرز نے ان پالیسیوں کو معیشت کے لیے بہتر قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 43 فیصد امریکی ووٹرز نے ٹرمپ کی مخالفت کو اپنا ووٹ ڈالنے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ صرف 16 فیصد ووٹرز نے ٹرمپ کی حمایت کو ووٹ ڈالنے کی وجہ بتایا۔سروے میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے بھی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، 79 فیصد امریکی ووٹرز کے مطابق وہ پچھلے ایک سال کے دوران مہنگائی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔62 فیصد امریکی ووٹرز نے مہنگائی کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔59 فیصد امریکی ووٹرز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں جبکہ 58 فیصد امریکی ووٹرز خوراک اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر پریشان ہیں۔امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائجامریکی ایوانِ نمائندگان ٹرمپ کے ہاتھ سے نکل گیا، جس کا کنٹرول ڈیموکریٹس نے دوبارہ حاصل کر لیا۔امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا اور فلوریڈا کے متعدد علاقوں میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ کے 174 اور ریپبلکن کے 104 ارکان کو برتری حاصل ہے۔امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 51 نشستوں سے سادہ اکثریت حاصل کر لی، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔435 رکنی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہوتی ہے۔امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔