دہلی پولس نے انکیتا بھنڈاری کے والدین کو راج گھاٹ کے باہر نہیں بیٹھنے دیا!

Wait 5 sec.

انکیتا بھنڈاری کے والدین، سماجی کارکن یوگیتا بھیانہ اور کانگریس رہنما  ممتاز پٹیل کے ساتھ، کل یعنی 4 نومبرکی شام کو  راج گھاٹ پہنچے۔ راج گھاٹ پر تقریباً 20 منٹ کے درشن کے بعد، انکیتا کے والدین راج گھاٹ کے باہر بیٹھنا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں فوراً ہٹا دیا۔ انکیتا کی ماں سونی دیوی اس دوران بیہوش ہو گئیں۔اس کے بعد یوگیتا بھیانہ اور دہلی پولیس کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ دہلی پولیس کی ٹیم انکیتا بھنڈاری کے والدین اور یوگیتا بھیانہ کے ساتھ راج گھاٹ سے روانہ ہوئی۔ صحت کے مسائل کا سامنا کرنے کے بعد، انکیتا بھنڈاری کی ماں، سونی دیوی کو طبی معائنہ(ایم ایل سی)کے لیے براڑی کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔دریں اثنا، اتراکھنڈ کانگریس انچارج کماری سیلجا نے انکیتا کے والدین کے ساتھ پولیس کے سلوک پر سوال اٹھائے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’’اتراکھنڈ کی بیٹی انکیتا بھنڈاری کے والدین کے ساتھ جو سلوک دہلی کے راج گھاٹ پر کیا گیا، جب وہ اس کے لیے انصاف مانگ رہے تھے، انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔‘‘उत्तराखंड की बेटी अंकिता भंडारी के लिए न्याय मांग रहे उनके माता-पिता के साथ दिल्ली के राजघाट पर जो व्यवहार हुआ, वह बेहद दुखद और शर्मनाक है।अपनी बेटी को खो चुकी एक माँ को न्याय की गुहार लगाने पर पुलिस की इस तरह की कार्रवाई का सामना क्यों करना पड़ रहा है?आखिर कितने धरने, कितने… pic.twitter.com/f0Kc0Mdmqy— Kumari Selja (@Kumari_Selja) November 4, 2026انہوں نے مزید لکھا، "ایک ماں جس نے اپنی بیٹی کو کھو دیا ہے انصاف کے حصول کے لیے اس طرح کی پولیس کارروائی کا کیوں سامنا کر رہی ہے؟ کتنے احتجاج، مظاہروں اور التجا کے بعد بی جے پی حکومت ان والدین کی حالت زار سنے گی؟ کیا اس ملک میں انصاف مانگنا جرم بن گیا ہے؟" اس دوران کانگریس رہنما ممتاز پٹیل نے بھی انکیتا کے والدین کے ساتھ دہلی پولیس کے سلوک پر تنقید کی۔