90 سے زائد کالجز میں ایک ہی استاذ کا نام! این سی ٹی ای کی جانچ میں اہم انکشاف

Wait 5 sec.

نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) نے ڈمی اساتذہ، طلبہ اور فرضی طریقے سے چل رہے تعلیمی اداروں کی شناخت کرنے کے لیے پرفارمنسس اپریزل رپورٹ (پی اے آر) کا اصول نافذ کیا تھا۔ اس میں اساتذہ کے پین کارڈ ویریفکیشن کا التزام بھی شامل ہے۔ ابتدائی تفتیشی عمل میں کئی حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں کہ اساتذہ ایک نہیں بلکہ 90 سے بھی زائد اداروں میں رجسٹرڈ ہیں۔ کوئی 50 تو کوئی 60 اور 90 سے زائد اداروں میں پڑھا رہا ہے۔#BreakingNews टीचिंग संस्थानों में डमी टीचर्स पर बड़ा खुलासाNCTE के PAN सत्यापन में सामने आया चौंकाने वाला सच-एक ही टीचर का नाम 90 से ज्यादा संस्थानों में दर्ज मिला। फर्जी संस्थानों पर जियो-टैगिंग से शिकंजा, नियम तोड़ने पर मान्यता तुरंत रद्द होगी।लापरवाही पर मान्यता होगी रद्द। pic.twitter.com/OxqBipVbej— National Council for Teacher Education (@NCTE_Official) November 4, 2026میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ اساتذہ 90-90 اداروں میں پڑھا رہے ہیں بلکہ یہ ڈمی اساتذہ ہیں، جو صرف نام کے لیے ان اداروں کی اساتذہ کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس کے بدلے انہیں اداروں سے کچھ پیسے مل جاتے ہیں اور ادارے کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ این سی ٹی ای اب تفصیلی تجزیہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہر طرح کی جعل سازی کو جڑ سے ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔این سی ٹی ای سے منظور شدہ کورسز چلانے والے تمام تعلیمی اداروں کو آن لائن پورٹل کے ذریعے ہر سال پرفارمنس اپریزل رپورٹ (پی اے آر) جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تقریباً 13 ہزار تدریسی اداروں کا ڈیٹا موصول ہو چکا تھا، لیکن کچھ اداروں نے عدالت سے رجوع کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ این سی ٹی ای کو اساتذہ کی تربیت دینے والے اداروں (ٹی ای آئی) سے سالانہ پرفارمنس اپریزل رپورٹس (پی اے آرز) طلب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ستمبر میں سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے اس فیصلے کو پلٹ دیا تھا، جس میں کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے تعلیمی اداروں سے اپریزل رپورٹس طلب کرنے کے نوٹس کو دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 30 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ان تدریسی اداروں کو اپریزل رپورٹ جمع کرانے کا ایک اور موقع دینے کی ہدایت دی تھی۔این سی ٹی ای نے اب تقریباً 850 اداروں کو اپریزل رپورٹ جمع کرنے کا ایک آخری موقع بھی دیا ہے۔ دیوالی کے بعد تفصیلی تجزیہ شروع ہو جائے گا۔ این سی ٹی ای نے اس کے لیے ایس او پی بھی تیار کر لیا ہے۔ یہ پتہ لگایا جائے گا کہ ادارے نے جو تصویر بھیجی ہے، کیا واقعی اسی جگہ تعلیمی ادارہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی تعداد کا بھی پتا لگایا جائے گا۔ جیو-کوآرڈینیٹس کا استعمال کر کے کسی تعلیمی ادارے کی شناخت کرنے کے عمل کو عام طور پر جیو ٹیگنگ یا مقام پر مبنی شناخت کہا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ این سی ٹی ای کو بھی ڈمی اساتذہ اور امیدواروں کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے بعد این سی ٹی ای نے موجودہ ضوابط کی بنیاد پر ہی اپریزل کا طریقۂ کار نافذ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کلاس روم میں تدریس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اچھے اساتذہ کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ایسے ادارے بھی ہیں جہاں صرف طلبہ کا رجسٹریشن تو ہوتا ہے لیکن نہ تو کوئی بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھانے والے ہوتے ہیں۔ این سی ٹی او کو اداروں میں جو بھی خامیاں ملیں گی، انہیں دور کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ ساتھ ہی جو ادارہ اپریزل رپورٹ جمع نہیں کریں گے ان کی منظوری منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔