یورپ میں طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعرات (5 نومبر) کو ڈبلن سے روم جا رہی ایک پرواز کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد فرانس کی جانب ڈائیورٹ کرنا پڑا۔ ایئربس اے320 طیارہ کو فرانس کے نورمانڈی علاقے میں واقع ایورو فوجی ایئر بیس پر اتارا گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران یورپ کی کئی پروازوں کو اسی طرح کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس سے فضائی آمد و رفت اور مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔Dublin-Rome flight diverted to French airbase as bomb threat wave hits European aviationRead @ANI Story | https://t.co/t2wIt7uaxy#Europe #Flightdisruption #France #Bombthreat pic.twitter.com/pV5bvcf1Y5— ANI Digital (@ani_digital) November 5, 2026ڈبلن سے اٹلی کی راجدھانی روم جا رہا ایئربس اے320 طیارہ جمعرات کو اپنے معمول کے سفر پر تھا۔ اسی دوران طیارہ کو بم کی دھمکی ملی۔ اس کے بعد طیارہ کا راستہ تبدیل کر کے اسے فرانس کے ایورو فوجی ایئر بیس کی جانب بھیج دیا گیا۔ یہ ایئر بیس نورمانڈی علاقے میں واقع ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم کے دفتر نے بتایا کہ معاملے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حالانکہ ابتدائی اطلاعات میں دھمکی کے ذرائع یا اس کی نوعیت کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں ہو پایا کہ طیارہ میں کتنے مسافر سوار تھے۔پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایئر لنگس کا طیارہ پیرس کے قریب پہنچنے کے بعد مڑ گیا۔ اس کے بعد وہ ایورو علاقے کے اوپر چکر لگاتا رہا۔ طیارہ نے پرواز کے دوران ہنگامی صورتحال کا اعلان بھی کیا تھا۔ بم کی دھمکی ملنے کے بعد طیارہ کو محفوظ مقام پر اتارنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ فرانس کے افسران نے طیارہ کو فوجی ایئر بیس پر بھیجا، جہاں سیکورٹی ایجنسیاں صورتحال پر نظر رکھ رہی تھیں۔ حالانکہ طیارہ کی تلاشی، بم ملنے یا مسافروں کو کسی طرح کے نقصان پہنچنے کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔نیویارک سے اسرائیل پہنچے ڈیلٹا ایئرلائنز کے مسافر طیارہ میں بم کی اطلاع سے مچی افراتفری!قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب منگل کو یورپ کی کئی پروازوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ افسران کے مطابق اس دن کم از کم 7 پروازوں اور ایک کروز جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعض رپورٹس میں تقریباً 10 پروازوں کو دھمکی ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان دھمکیوں کے باعث پولینڈ کے وارسا ہوائی اڈے کو کچھ وقت کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔ جن ایئرلائنز کی پروازوں کو دھمکیاں ملی تھیں، ان میں پولش ایئرلائن لاٹ، اسکینڈینیوین ایئرلائنز، وِز ایئر اور رائن ایئر شامل تھیں۔ حالانکہ تحقیقات کے دوران کسی بھی طیارہ میں دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔