نئی دہلی /لدھیانہ: ہندوستان کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد اور قومی شخصیت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کی 70ویں برسی کے موقع پر تاریخی جامع مسجد لدھیانہ میں مجلسِ احرارِ اسلام کی جانب سے قرآنِ کریم کی تلاوت اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہا کہ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ہندوستان کی جنگِ آزادی کے وہ عظیم مجاہد تھے جنہوں نے برطانوی سامراج کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں تقریباً 14 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انگریزوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ پانی کے مٹکے رکھوا کر عوام میں مذہبی تفریق پیدا کرنے کی جو سازش کی تھی، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اور پشاور تک ریلوے اسٹیشنوں پر رکھے گئے ان مٹکوں کو تڑوا دیا۔ اس اقدام کی پاداش میں انہیں جیل بھی جانا پڑا، حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ سب کو ایک ہی پانی پینا ہے اور انگریزوں کی تقسیم کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔شاہی امام نے کہا کہ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے ظالم انگریز حکمرانوں کی کبھی پروا نہیں کی اور آزادی کی جدوجہد میں ملک کے مختلف طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے شہیدِ اعظم بھگت سنگھ کے خاندان، نیتا جی سبھاش چندر بوس، پنڈت جواہر لال نہرو، پنتھ رتن ماسٹر تارا سنگھ، پنجاب کیسری لالہ لاجپت رائے، نام دھاری ست گرُو پرتاپ سنگھ اور سید عطا اللہ شاہ بخاری سمیت متعدد قومی رہنماؤں کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے 1947 میں ملک کی تقسیم کو مسترد کردیا تھا اور پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان جانے کے بجائے انہوں نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی اور اپنے وطن میں رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی اور اتحاد و بھائی چارے کے لیے کام کیا۔شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے بتایا کہ ہندوستان کی جنگِ آزادی کا پہلا فتویٰ بھی ان کے دادا مولانا شاہ عبدالقادر لدھیانوی نے 1857 میں دیا تھا اور انہوں نے لدھیانہ سے انگریزوں کو مار بھگایا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج اس عظیم مجاہدِ آزادی کی برسی کے موقع پر ہم جہاں ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، وہیں اس عزم کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ جن بے شمار قربانیوں کے بعد ہمارا ملک آزاد ہوا، اس ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے اور ہندوستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔