میساچوسٹس : امریکا میں اپنے 3 بچوں کے قتل کے مقدمے کا سامنا کرنے والی 36 سالہ لنڈسے کلینسی کا کہنا ہے کہ وقوعہ کی رات ایک آواز آئی جس نے مجھے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔3بچوں کے قتل میں ملوث ملزمہ ماں لنڈسے کلینسی کے دفاعی وکیل نے کہا ہے کہ اگر جیوری کسی حتمی فیصلے پر نہ پہنچ سکی اور مقدمے کا دوبارہ ٹرائل ہوا تو ان کی مؤکلہ اسے جذباتی طور پر برداشت نہیں کر پائے گی۔دفاع کا مؤقف ہے کہ واردات کے وقت لنڈسے کلینسی شدید زچگی کے بعد نفسیاتی عارضے (Postpartum Psychosis) کا شکار تھی اور ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے طاقتور ادویات استعمال کر رہی تھی، جس کے باعث وہ اپنی حرکات و سکنات کے درست یا غلط ہونے میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی۔دفاعی وکیل رِڈنگٹن کے مطابق مقدمے کے دوران کلینسی کی ذہنی اور جذباتی حالت انتہائی خراب رہی۔ وہ عدالت میں متعدد مرتبہ پھوٹ پھوٹ کر رو چکی ہیں اور اپنے بچوں کو پہنچنے والے زخموں کی تفصیلات سن کر ایک موقع پر چیخ کر کہا، ”میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔”کلینسی کئی مواقع پر عدالت میں بالکل بے تاثر بھی دکھائی دیں، اکثر خلا میں گھورتی رہیں یا سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی نظر آئیں۔ وکیل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ ممکنہ طور پر دوبارہ ٹرائل کا سامنا نہیں کرسکتیں۔ملزمہ کی سابق ساس سوزن کلینسی نے بھی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سابق بہو پہلے بھی ذہنی پریشانیوں سے گزر رہی تھی جبکہ دفاعی ماہر نفسیات ڈاکٹر فلپ ریزنک نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کو قتل کرتے وقت کلینسی شدید نفسیاتی کیفیت میں مبتلا تھیں اور انہیں ایک ایسی آواز سنائی دی جو بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رہی تھی۔طبی اصطلاح میں اسے کمانڈ ہیلوسینیشن کہا جاتا ہے، جس میں مریض کو ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو اسے کسی مخصوص عمل کی ہدایت دیتی ہیں۔پانچ ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے مقدمے کے دوران استغاثہ کے 70 سے زائد گواہان جبکہ دفاع کی جانب سے 10 گواہ پیش کیے گئے، تاہم جیوری اب تک متفقہ فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔یاد رہے کہ لنڈسے کلینسی پر 2023 میں اپنے 3بچوں، 5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن اور 8 ماہ کے کیلن کو قتل کرنے کا الزام ہے، ملزمہ نے بچوں کی ہلاکت سے انکار نہیں کیا تاہم قتل کے الزامات میں خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔