غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کا منصوبہ تیار، امریکی اشارے کا انتظار ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

Wait 5 sec.

(2 ستمبر 2026): اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کے حوالے سے متنازع بیان دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کاٹز نے ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کا منصوبہ تیار ہے، لیکن اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ امریکا انہیں کہاں لے جانے کا فیصلہ کرتا ہے، آخر کار اس کے بغیر غزہ کا کوئی حقیقی حل موجود نہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ کے فلسطینیوں کو نکالنے کیلیے سمندر کے راستے، ہوائی راستے اور ہر ممکن طریقے سے منظم اور تیار ہے۔یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے چیف ربی کا فلسطینی قوم کے وجود سے انکارانہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خیال کو صرف معطل کیا ہے کیونکہ وہ ایسے ممالک کی تلاش میں ہیں جو فلسطینیوں کو پناہ دیں کیونکہ مصر ان کیلیے کوئی آپشن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ اس پر ہر وقت اور یہاں تک کہ اب بھی بات چیت ہو رہی ہے اور میرے خیال میں سب کی بہتری کیلیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے، لیکن اس کے ہونے کیلیے ہمیں امریکا کی ضرورت ہے، ہمیں ان کی منظوری کب ملے گی؟ جب یہ واضح ہو جائے گا کہ حماس جنگ بندی کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی۔