نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو کہا کہ دیہی آبادی کو صرف خشک سالی، سیلاب، فصلوں کی تباہی یا انتخابات کے دوران یاد نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ ان کے لیے ایسا ترقیاتی ماڈل تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بحران آنے سے پہلے ہی انہیں تحفظ فراہم کرے۔ کانگریس صدر نے یہ بات ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی فاؤنڈیشن اور ڈاکٹر کے وی پی فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایم ایس سوامیناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن (ایم ایس ایس آر ایف) کو ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔کانگریس صدر نے کہا کہ دیہی علاقوں کے لوگ صرف اس وقت توجہ کے مستحق نہیں جب کوئی قدرتی آفت آئے، فصل خراب ہو یا انتخابات قریب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی برادریوں کو ایسا ترقیاتی نظام چاہیے جو بحران آنے سے پہلے ہی انہیں معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کسانوں کو منصفانہ منڈی دستیاب ہو، دیہی خاندانوں کو باعزت روزگار حاصل ہو اور خواتین معاشی طور پر خودمختار بنیں۔ ان کے مطابق قبائلی برادریوں اور دیہات کو ٹیکنالوجی، مواقع اور بنیادی ڈھانچے تک بھی مناسب رسائی ملنی چاہیے۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت کا اہم کردار ایسا تحفظ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے دیہی اور قبائلی برادریاں ملک کی ترقی میں محض مستفید ہونے والوں کے بجائے فعال شراکت دار بن سکیں۔کانگریس صدر نے اس موقع پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے ایک آر ایس ایس رہنما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہندوستان میں بہت سی اصلاحات ہوئی ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ جن اصلاحات کا حوالہ دیا جا رہا تھا، انہیں کانگریس نے انجام دیا تھا۔ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور زرعی سائنس دان ایم ایس سوامیناتھن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ دونوں شخصیات کا یقین تھا کہ ترقی کا حتمی مقصد عام لوگوں کی عزت اور وقار کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی نے غریبوں اور محروم طبقات کے لیے کام کیا، جبکہ سوامیناتھن نے سائنسی ترقی کو سماجی مساوات اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ملکارجن کھڑگے نے دیہی برادریوں پر موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر یقینی مانسون، سیلاب، خشک سالی، سمندری طوفان اور موسم کے بدلتے انداز صرف ماحولیاتی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ فصلوں کی تباہی، روزگار کے نقصان، بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ اور گھریلو قرض میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔انہوں نے ایم ایس سوامیناتھن کی گرین ریوولوشن میں خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی سائنس دان نے خوراک کی پیداوار بڑھانے کے تصور سے آگے بڑھ کر ’ایورگرین ریوولوشن‘ کی بات کی تھی، جس کا مقصد ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر خوراک کی پیداوار میں اضافہ، سائنسی ترقی کو سماجی مساوات سے جوڑنا اور دیہی برادریوں کے وقار کا تحفظ تھا۔LIVE: Congress President Shri @kharge | Dr Y.S Rajasekhara Reddy Award-2026 | New Delhi https://t.co/k7Uys4rINP— Congress (@INCIndia) September 2, 2026کھڑگے نے کہا کہ 1988 میں قائم ایم ایس سوامیناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن اسی وژن کو آگے بڑھا رہی ہے اور دیہی و قبائلی برادریوں کے لیے زرعی طریقوں، ٹیکنالوجی، منڈی تک رسائی، روزگار، غذائیت، خواتین کو بااختیار بنانے، حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی لچک جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کو نریندر مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے اور راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔ایم ایس سوامیناتھن کی بیٹی اور ایم ایس ایس آر ایف کی چیئرپرسن ڈاکٹر سومیا سوامیناتھن طبی طریقہ کار کے بعد سفر کرنے سے قاصر ہونے کے باعث دہلی میں تقریب میں ذاتی طور پر شریک نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے ایوارڈ دینے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا اور کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔