لکھنؤ: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ڈالی باغ علاقے میں واقع سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کی کوٹھی بدھ کو ان کے اہل خانہ کو واپس مل گئی۔ گینگسٹر ایکٹ کے تحت قرق اور سیل کی گئی اس جائیداد کا قبضہ عدالت کے حکم کی تعمیل میں میونسپل کارپوریشن اور محکمہ محصولات کی ٹیم نے خاندان کو دیا۔تقریباً 6700 مربع فٹ رقبے میں بنی اس جائیداد کو اکتوبر 2022 میں غازی پور پولیس نے اتر پردیش گینگسٹر ایکٹ کی دفعہ 14(1) کے تحت قرق کر کے سیل کر دیا تھا۔ عدالت کے حکم کے بعد بدھ کو انتظامی افسران کی ایک ٹیم ڈالی باغ واقع جائیداد پر پہنچی اور ضروری قانونی و انتظامی کارروائی مکمل کی۔افضال انصاری کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے اسلحہ لائسنس کی فائل غائب ہونے کے معاملے میں ملی عبوری راحتحکام نے جائیداد کی سیل کھولنے سے قبل اس سلسلے میں پنچنامہ تیار کیا۔ تمام دستاویزی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جائیداد کا حقیقی قبضہ افضال انصاری کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ جائیداد افضال انصاری کی اہلیہ فرحت انصاری کے نام درج ہے۔ غازی پور پولیس نے اسے گینگسٹر ایکٹ کے تحت یہ کہتے ہوئے قرق کیا تھا کہ یہ جائیداد مبینہ طور پر جرائم سے حاصل کی گئی آمدنی سے بنائی گئی ہے۔ قرقی کی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔غازی پور کی خصوصی گینگسٹر عدالت نے اپریل 2025 میں معاملے کی سماعت کے بعد جائیداد کو جرم یا گینگسٹر سرگرمیوں سے حاصل شدہ قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے غازی پور کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی تھی کہ 30 دن کے اندر جائیداد کی سیل کھول کر اسے مالکان کو واپس کیا جائے۔کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر سفر اب محفوظ نہیں، 5 مقامات پر سڑک دھنس گئی، بولڈر بھی ٹوٹاعدالت کے حکم کے باوجود جائیداد کا قبضہ واپس نہ ملنے پر الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد انتظامیہ نے بدھ کو کارروائی کرتے ہوئے جائیداد کو خاندان کے حوالے کر دیا۔ قبضہ حاصل کرنے کے لیے موقع پر پہنچے افضال انصاری نے بتایا کہ انہوں نے یہ پلاٹ 1998 میں خریدا تھا اور 2001 میں مکان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ان کا خاندان یہاں رہنے لگا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2022 میں اس جائیداد کو جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنی جائیداد قرار دے کر گینگسٹر ایکٹ کے تحت قرق اور سیل کر دیا گیا تھا۔جائیداد تک پہنچنے والے راستے پر کچرا جمع ہونے کی وجہ سے آمدورفت میں بھی دشواری تھی۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بلڈوزر کی مدد سے راستے سے کچرا ہٹایا گیا، جس کے بعد اہل خانہ کو جائیداد تک پہنچنے کا راستہ مل سکا۔ حکام نے عدالت کی ہدایات کے مطابق قبضہ منتقلی کی تمام کارروائی مکمل ہونے کی تصدیق کی۔